خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 342
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 342 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء تھے، ان کے حوصلے بڑھاتے اور دلجوئی فرماتے تھے۔حضرت ام عمارہ جنہوں نے اس تاریخی جہاد میں بھر پور حصہ لے کر مسلمان عورت کے مقام کو آسمانی رفعتیں عطا کیں اور ثریا سے ہمکنار کر دیا اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ”جس وقت اُحد کے مقام پر ہمارے لوگوں میں بھگدڑ پڑ گئی اور آنحضور کے پاس دس آدمی بھی باقی نہ رہے تو میں اور میرا شوہر اور میرے دو بیٹے حضور کے آگے کھڑے ہو کر آپ کے پاس سے دشمنوں کے غول کو ہٹانے لگے اور مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ آپ کے سامنے ہی بھاگے جاتے تھے۔اسی اثناء میں حضور کی نظر اچانک مجھ پر پڑ گئی تو آپ نے دیکھا کہ میرے پاس سپر نہیں ہے اس لئے آپ نے ایک بھاگنے والے سے جس کے پاس سپر تھی یہ فرمایا کہ اے سپر والے ! اپنی سپر کو کسی لڑنے والے کو دیتا جا۔چنانچہ اس نے بھاگتے بھاگتے اپنی سپر زمیں پر ڈال دی۔میں جھٹ اسے اٹھا کر آنحضور کے سامنے روک کر کھڑی ہوگئی اور اس وقت مشرک لوگ ہم پر بہت زیادتیاں کر رہے تھے۔وجہ یہ تھی کہ وہ سوار تھے اور ہم پیدل اور وہ بھی ہماری طرح کہیں پیدل ہوتے تو ہم انشاء اللہ ان کو ضرور مار لیتے۔چنانچہ ان میں سے ایک سوار نے آگے بڑھ کر مجھ پر تلوار چلائی تو میں نے اس کو اپنی ڈھال پر روک لیا اس لئے اس کا وار خالی گیا اور وہ لوٹ کر واپس چلا۔پس میں نے موقع پا کر پیچھے سے اس کے گھوڑے کے کونچ کاٹ دیئے جس سے وہ چاروں شانے چت گر پڑا۔“ ( شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۶۰) اس واقعہ کا ذرا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو آنحضور کے کریمانہ اخلاق کے دو بہت حسین پہلوا بھر کر سامنے آتے ہیں۔پہلا یہ کہ اس شدید نرنے کی حالت میں بھی حضور گردو پیش کے حالات پر پورے اطمینان کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایک ذرا بھی سراسیمہ نہیں ہوئے اور اپنے گر دو پیش لڑنے والوں کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خیال رکھ رہے ہیں۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ حضرت ام عمارہ کو ڈھال دلوانے کا انداز بڑا ہی دل نشین ہے اور ایک بھاگنے والے مرد کی ڈھال ایک لڑنے والی عورت کو دلوانی ہے لیکن بات میں کوئی تلخی اور طعن نہیں۔یہ کہنا پسند نہیں فرمایا کہ اے بھاگنے والے! ایک لڑنے والی عورت کے لئے ڈھال چھوڑتا جا۔بس اتنا ہی کہا کہ اے ڈھال والے ! ایک لڑنے والے کو ڈھال دیتا جا۔یہ بھی ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ ضرورت مند ایک عورت ہے لیکن ساتھ ہی دیکھئے کہ لڑنے والی عورت کا دل کیسے بڑھا دیا ! اور کیسی حوصلہ افزائی فرمائی اور کیسی بر وقت اس کی امداد فرمائی