خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 341 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 341

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 341 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ہوئے آر پار نکل جاتے لیکن آنحضور کی یاد نہیں پھر کھینچ کر واپس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آتی۔جب انہوں نے آنحضور کو انتہائی خطرات میں گھرا ہوا تنہا پایا تو جب تک آنحضور پر سے خطرہ ٹل نہ گیا پھر آپ کو چھوڑ کر نہ گئے اور اپنے جسم کو آنحضور کی ڈھال بنائے رکھا۔یہ عشق اور روحانیت کی سرزمین کے قصے ہیں کسی دنیاوی قتال کی باتیں نہیں۔بھلا دنیا کی جنگوں میں بھی ایسی عاشقانہ جان نثاریاں کبھی دیکھنے میں آتی ہیں؟ میں سوچتا ہوں کہ اس چھلنی بدن ابودجانہ کے ہونٹوں پر جاری وہ عاشقانہ اشعار کیسے بچے اور بھلے لگتے ہوں گے جب ماتھے پر سرخ پٹی باندھے ہوئے آنحضور کی تلوار کو دشمنوں کے سروں پر لہراتے ہوئے وہ بلند آواز سے ایک خاص ترنگ اور لے کے ساتھ یہ اشعار پڑھتے جاتے تھے: انا الَّذِي عَاهَدَنـي خَلِيْلَـيْ وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيْلِ الا أقومُ الدَّهْرَ فِي الْكَيول أخرِبْ بِسَيْفِ اللَّهِ وَالرَّسُوْلِ ترجمہ:۔میں وہی ہوں جس سے میرے حبیب نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درختوں کے قریب پہاڑ کے دامن میں عہد و پیمان لیا تھا۔میں کھڑے ہو کر آخری صف تک مقابلہ کرتا رہوں گا۔اللہ اور اس کے رسول کی تلوار برابر چلاتا رہوں گا۔(سیرۃ ابن ہشام جز ۴ ، صفحہ: ۱۶،۱۵) غزوہ احد میں بعض عورتیں بھی شریک تھیں جو زخمیوں کو پانی پلانے کے لئے آئی ہوئی تھیں۔ان میں سے ایک ام عمارہ دشمن کی اچانک یلغار کے وقت آنحضور کے قریب ہی تھیں۔جب انہوں نے حضور کو ان مہیب خطرات میں گھرا ہوا پایا تو ان سے برداشت نہ ہوا کہ ان کے جیتے جی دشمن آپ تک پہنچ جائے۔پس بھاگنے والے مسلمان مردوں کا کفارہ انہوں نے اس طرح ادا کیا کہ یعنی مشکیزہ و ہیں زمین پر پٹخ کر تلوار اٹھائی اور دیوانہ وار بھی ایک طرف سے آنے والے حملہ آور پر بھرتی تھیں تو کبھی دوسری طرف لوٹتیں۔غرض یہ کہ جیسے ماں بچے کے لئے دیوانی سی ہوکر درندوں سے بھڑ جاتی ہے کچھ ایسی ہی حالت اس وقت ان کی ہورہی تھی۔آنحضور بلند آواز سے ان کے لئے دعائیں کرتے