خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 340

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 340 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء صورت رہی ختم ہونے کے بعد حضرت طلحہ حضور سے عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ! خدا مجھے آپ پر قربان کرے بس اب آپ کیوں تکلیف فرماتے ہیں؟ میرے تیر تو ختم ہو گئے آپ ہٹ جائیں اور آرام فرما دیں غرض حضرت طلحہ تو حضور سے یہ عرض کرتے جاتے اور حضور آپ کو ادھر ادھر سے کوئی خشک لکڑی اٹھا دیتے تھے اور فرما دیتے تھے کہ لے اس کو مار۔چنانچہ ( ابوطلحہ ) اسی خشک لکڑی کو اپنی کمان پر رکھ کر تیر کی جگہ مارتے تھے تو وہی بہترین تیر ہو جاتی تھی۔( شروح الحرب ترجمہ فتوح العرب صفحہ: ۳۲۶) حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب احد کا دن ہوا تو ( دیکھا ) لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے مگر ابو طلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آپ پر ایک ڈھال لگائے ہوئے تھے ابوطلحہ ایسے تیرانداز تھے کہ ان کی کمان کی تانت بہت سخت ہوا کرتی تھی۔اس دن وہ دو یا تین کما نہیں توڑ چکے تھے اور کوئی شخص تیروں سے بھرا ہوا ترکش لے کر نکلتا تو آنحضرت اس سے فرماتے یہ تیرا ابوطلحہ کے سامنے ڈال دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گردن اٹھا اٹھا کر دیکھتے تو ابوطلحہ کہتے تھے یا نبی اللہ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔آپ گردن نہ اٹھا میں کہیں آپ کو کافروں کا تیر نہ لگ جائے۔میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ہے۔۔۔اور ابوطلحہ کے ہاتھ سے اس دن دو مرتبہ یا تین مرتبہ تلوارگر پڑی۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۲۵، ۳۲۶) ابن اسحاق نے بیان کیا: ابو دجانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک کر ڈھال بن گیا۔تیر پر تیر پشت پر کھاتا رہا۔بے شمار تیر اس کو لگے۔سعد بن ابی وقاص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدافعت میں تیر چلا رہے تھے۔آپ ( سعد بن ابی وقاص) نے کہا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے مجھے تیر تھماتے جارہے تھے کہ ارم فداک ابی و امی میرے ماں باپ تم پر قربان تیر چلاتے جاؤ۔یہاں تک کہ آپ نے مجھے ایک ایسا تیر دیا جس کا پھل نہ تھا۔اس کے باوجود فر مایا ارم بہ اس کو چلاؤ۔(سیرت ابن ہشام جزء ۴ صفحه : ۳۰) یه ابودجانہ جن کا ذکر اس روایت میں آیا ہے وہی ہیں جن کو آنحضور نے خود اپنی تلوار عنایت فرما کر ایک جاودانی اعزاز بخشا تھا۔اس تلوار کا جس شان کے ساتھ انہوں نے حق ادا کیا اس کا تفصیلی ذکر احادیث اور کتب تاریخ میں ملتا ہے۔یہ حملہ کرتے ہوئے بسا اوقات دشمن کی صفیں چیرتے