خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 327 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 327

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 327 غزوات النبی میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء ایسا سودا سمایا کہ اپنے سردار کی اجازت کے بغیر ہی جگہ چھوڑ کر چلے گئے۔صرف چند جاں نثار اور وفا کیش صحابہ اپنے سردار کے ساتھ اطاعت رسول کی برکت سے فوز عظیم پانے کے لئے پیچھے رہ گئے۔شروح الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه: ۳۰۷) اس وقت اگر چہ کفار کی فوج میں ایک عام بھگڈ ریچ چکی تھی اور کیا پیادہ اور کیا گھوڑ سوار بھی میدان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ خالد کے دل کی یہ حسرت ابھی مایوسی میں نہیں بدلی تھی کہ کسی طرح اسی درہ پر عبور حاصل ہو جائے جو فتح وشکست کا فیصلہ کن دروازہ بنا ہوا تھا۔خالد خوب جانتا تھا کہ جب تک یہ دروازہ قائم ہے قریش حملہ آور فتح کے میدان میں قدم نہیں رکھ سکتے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھاگتے ہوئے بھی بار بار مڑ مڑ کر اس درہ پر لالچ بھری نگاہیں ڈال رہا تھا۔اچانک اس نے یہ دیکھا کہ درہ کے محافظین کی اکثریت جگہ خالی کر گئی ہے، اچانک اس کے دل کی مراد بر آئی اور اس کی تیز عقابی نظر نے بھانپ لیا کہ جوابی حملہ کا وقت آپہنچا ہے۔سالاران جیش کی زندگی میں شاذ ہی ایسے سنہری موقع آتے ہیں جیسے اس وقت خالد کو نصیب ہوا چنانچہ اس نے دفعہ اپنے گھوڑ سوار دستے کا رخ پلٹ دیا اور اطاعت اور وفا کے پہلے حضرت عبداللہ بن جبیر اوران کے چند ساتھیوں کو شہید کرتا ہوا مسلمانوں کی پشت پر حملہ آور ہو گیا۔یہ دیکھ کر کفار کی دوسری بھاگتی ہوئی فوج بھی رک گئی اور معا پلٹ کر نئے سرے سے مسلمانوں پر حملہ آور ہوئی۔پس اچانک انہوں نے دونوں طرف سے مسلمانوں کو بے خبری کے عالم میں جالیا۔یہ دو طرفہ حملہ ایسا شدید اور اچانک تھا کہ اس نے صحابہ کو صف بندی کا موقعہ ہی نہ دیا اور بالعموم مسلمانوں کے پاؤں ایسے اکھڑے کہ پھر جمنے کا نام نہ لیتے تھے۔آنحضور بھی چند صحابہ کے ساتھ میدان وغا کے وسط میں باقی لشکر سے کٹ کر الگ ہو چکے تھے۔اس وقت دشمن کا سارا زور آپ کی ذات پر مرکوز ہو گیا اور چاروں طرف سے طوفانی لہروں کی طرح ایک کے بعد دوسری یلغار ہونے لگی۔لڑائی کے میدان میں یہ حیرت انگیز ڈرامائی تبدیلی اگر چہ بڑے پر درد مناظر پیش کرتی ہے اور عشاق رسول کے سینوں پر درد کے آرے چلانے لگتی ہے لیکن ساتھ ہی آنحضور کی عظمت اور رفعت شان کے ایسے مناظر بھی دکھاتی ہے کہ نظر حیرت سے اس رفیع الشان وجود کو دیکھتی ہے جو ناممکن الوجود دکھائی دیتا ہے لیکن عالم خلق میں اس سے بڑھ کر یقینی اور کوئی وجود نہیں۔وہ جن کی صفات