خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 30
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 30 30 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ تھا کہ ایک دفعہ زلزلہ آیا اور سنگ مرمر کا ایک پہاڑ ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔پھر اتفاق سے وہ سب ٹکڑے برابر ہو گئے اور خوبصورت مناسب پتھروں کی شکل میں تراشے گئے۔پھر یہ پتھر ایک زبر دست آندھی میں وہاں سے اڑ کر آگرہ میں جا گرے۔اتفاق ایسا ہوا کہ اسی آندھی میں ایک اور جگہ سے اتفاقیہ بنا ہوا پلستر بھی اڑ کر آگرہ ہی چلا آیا۔دونوں وہاں اتفاقا اکٹھے پہنچے اور اتفاقاً اس وقت بارش شروع ہوگئی مگر اتفاقا صرف بارش اتنی ہی ہوئی کہ پلستر کا مسالہ بھیگ کر عمدہ پلستر کی صورت میں تبدیل ہو گیا اور پھر پتھر اور مسالہ اتفاقاً ایک دوسرے پر اس طرح گرنے لگے کہ ہر دو پتھروں کی درمیانی سطح پر پلستر کی ایک تہہ جمنے لگی۔اسی طرح اور بہت سے اتفاقات کے نتیجہ میں دوسری تعمیری ضروریات بھی وہاں پہنچنے لگیں اور ایسی دو چار پندرہ ہمیں سویا ہزار آندھیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ آخر ایک رات جب کہ چاروں طرف نرم نرم چاندی بکھری پڑی تھی تاج محل کی حسین و جمیل عمارت اتفاقا بن کر مکمل ہوگئی۔اگر آپ کو یہ کہا جائے کہ تاج محل کی تعمیر کا رب اتفاق تھا اور یقین دلانے کے لئے یہ بھی کہہ دیا جائے کہ وہ چند سالوں کے اتفاق کے نتیجہ میں نہیں بلکہ دس کروڑ سالوں کے اتفاقات کے نتیجہ میں اپنی صناعی کے اس کمال تک کو پہنچا تو بھی کیا آپ یہ تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر دیں گے؟ پھر آپ یہ کیسے تسلیم کر سکتے ہیں کہ انسان کی ارتقائی تعمیر کا رب اتفاق تھا حالانکہ انسان کے اندر جو صناعی کے کمالات موجود ہیں ان کے مقابل پر تاج محل کی حیثیت اتنی بھی تو نہیں جتنی تاج محل کے مقابل پر کسی مٹی کے غلیلے کی ہو جو اس کے دامن میں پڑا ہوا ہو۔اتفاق کو ارتقائے انسانی کا رب قرار دینے کی راہ میں یہی مشکل ہے جس کے پیش نظر اب بڑے بڑے دہریہ سائنسدان بھی اس نظریہ کو ٹھکرا رہے ہیں۔ارتقاء کے ان گنت منازل کو اتفاق کا نتیجہ قرار دینا تو خیر بہت ہی دور کی بات ہے اس کی پہلی منزل یعنی زندگی کے ابتدائی ذرہ کے پیدا ہونے کو بھی اتفاق کی پیداوار قرار نہیں دیا جا سکتا۔چنانچہ عصر حاضر کا عظیم روسی ماہر حیاتیات اس نظریہ کو کہ زندگی اتفاقاً پیدا ہو گئی سخت نا معقول قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ تسلیم کر لینا اسی طرح خلاف عقل ہے جس طرح یہ تسلیم کر لینا کہ میری میز کا ہر ذرہ جو ایک اندرونی حرکت کر رہا ہے اتفاقاً اکٹھا ایک ہی رفتار کے ساتھ اوپر کی طرف حرکت کرے اور کسی بیرونی اثر کے بغیر اچانک یہ میز خود بخو داو پر