خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 31
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 31 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ کی طرف اٹھ جائے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسانی پیدائش کی پہلی منزل کو بھی اتفاق کا نتیجہ قراردینا اگر سخت احمقانہ بات ہے تو اس کی ان گنت منازل پر اس پاگل پن کی تکرار کس طرح تسلیم کی جاسکتی ہے۔اسی لئے وہ جدید دہر یہ سائنسدان بھی جو کسی بیرونی ذی شعور ہستی کو ارتقاء کا رب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اپنے ایک رب یعنی اتفاق کو تو خود اپنے ہاتھوں سے مارنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان کی تحقیق بصیرت کے اس مقام پر جا پہنچے گی کہ انہیں یہ امکان بھی اسی طرح ناممکن نظر آئے گا کہ ارتقاء کرتی ہوئی زندگی خود اپنا رب ہے تب ان کے لئے سوائے اس کے چارہ نہیں رہے گا کہ قرآن کے ہم زبان ہو کر یہ اعلان کر دیں کہ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام ارتقاء کرتے ہوئے جہانوں کا رب ہے۔یہ تو نئی تحقیق کے ہاتھوں اتفاق کا حشر ہے مگر زندگی کو خود اپنا ہی رب قرار دینے والوں کا حال بھی کچھ کم دردناک نہیں۔وہ زندگی میں ترقی کا مادہ دیکھ کر اپنے آپ کو یہ تو کسی نہ کسی طرح منوا لیتے ہیں کہ یہ ترقی کی خواہش ہی رب الارتقاء ہے مگر جب اس مسئلہ پر غور کرتے ہیں کہ ایسا ذی شعور رب اور حیرت انگیز صانع موت کے منہ سے کس طرح خود بخود نکل آیا ؟ اور اس رب کو پیدا کرنے والا کون تھا؟ تو سخت شش و پنج میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔سائنس کا ایک ایسا مسئلہ ہے جو آج تک حل نہیں ہو سکا۔آج کوئی ایسا فلسفہ بھی دنیا کے لئے قابل قبول نہیں رہا جو اس مادی عالم سے تعلق رکھتا ہو مگر قانون طبعی اس کی تائید نہ کرتا ہو۔چنانچہ زندگی کی ابتدا کے متعلق بھی گزشتہ ایک سوسال میں یا اس سے پہلے جتنے بھی نظریات پیش کئے گئے ہیں سائنس کے نئے انکشافات نے ان کو بالکل جھٹلا دیا ہے۔سب سے پہلے ریڈی (Francesco Redi) نے تقریباً سترھویں صدی کے وسط میں اپنے بعض تجربوں سے یہ ثابت کیا کہ یہ جو ہم گلے سڑے گوشت سے کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے دیکھتے ہیں یہ دراصل ان انڈوں سے پیدا ہوتے ہیں جو مکھیاں ایسے گوشت پر چھوڑ جاتی ہیں۔جب یہ ٹوٹ پھوٹ کر کیڑوں مکوڑوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ ابھی مردہ مادہ میں سے پیدا ہوئے ہیں۔اس انکشاف کے حق میں اور خلاف سائنسدانوں نے ایک مدت تک بحث کی کیونکہ ان کے تجربے ناقص تھے اور انہیں ایک دوسرے کی تردید اور نکتہ چینی کے بہت سے مواقع میسر تھے مگر