خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 29

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 29 29 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ اس وجود کو بہتر بناتی چلی جائے یہاں تک کہ ایک حقیر ذرہ انسانیت کے بلند مقام تک جا پہنچے، بغیر کسی رب کے ناممکن ہے۔رب اور ارتقاء لازم اور ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر کوئی رب ہے تو ارتقاء کا وجود ضرور ہو گا اور اگر ارتقاء ہے تو ناممکن ہے کہ رب نہ ہو۔یہی وجہ ہے کے ڈارون Charles) (Darwin پر جب ارتقاء کا نظریہ روشن ہوا تو اگر چہ بائبل کے ماننے والوں نے اس کے نظریہ کو بائبل کے خلاف سمجھ کر اس پر کفر کے فتوے لگائے اور طرح طرح کی پھبتیاں کسیں۔مگر اپنی شہرہ آفاق کتاب Origin of Species میں وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ جوں جوں حقیقت ارتقاء مجھ پر روشن ہوتی چلی جاتی ہے میر اسر ادب اور احترام کے ساتھ اپنے خالق کے حضور جھکتا چلا جاتا ہے۔جب تک میں یہ سمجھتارہا کہ انسان اور حیوان اچانک کیچڑ سے نکل کھڑے ہوئے تھے خدا تعالیٰ کی عظمت مجھ پر روشن نہیں ہوئی تھی۔مگر جب حقیقت ارتقاء مجھ پر واضح ہوئی تو میرے ذہن پر اس عظیم الشان بنانے والے کی ہستی آشکارا ہوگئی اور میرا دل اس یقین سے بھر گیا کہ اس حیرت انگیز نظام اور تدریجی ترقی کا ضرور کوئی رب ہے۔پس ارتقاء کا وجود اس شدت سے کسی رب کے وجود کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ تمام سائنسدان جوارتقاء کے وجود کے قائل ہیں اس امر پر طوعاً و کرہا مجبور ہیں کہ اس کا ایک رب تسلیم کریں۔اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا۔صرف فرق یہ ہے کہ جیسا کہ ہونا چاہئے ان میں سے بہت سے تو خدا تعالیٰ کوارتقاء کا رب سمجھتے ہیں مگر بعض ایسے خدا تعالیٰ کی ہستی کے منکر دہر یہ سائنسدان بھی موجود ہیں جو یا تو ارتقاء کرنے والے حیوانات اور نباتات کو ہی خود اپنا اپنا رب خیال کرتے ہیں یا ان گنت سالوں میں ہونے والے ان گنت حادثات زمانہ کو بہر حال یہ امران سب کے نزدیک یقینی ہے کہ ارتقاء کا وجود کسی نہ کسی کو چاہتا ہے اور یہ دہریہ بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے۔جوں جوں علم بڑھتا چلا جاتا ہے اور منظم قوانین قدرت کے حیرت انگیز انکشافات ہوتے چلے جاتے ہیں ایسے دہر یہ سائنسدانوں کی مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں جن کے نزدیک اتفاق ہی انسانی ارتقاء کا رب تھا۔کیونکہ جس قدر بھی وہ زندگی کی چھان بین کر رہے ہیں اسی قدر کارخانہ قدرت انہیں منظم نظر آ رہا ہے اور یہ نظم وضبط اتنا وسیع ہے کہ اگر اتفاق کو رب الارتقاء تسلیم کیا جائے تو ارتقاء کی ان گنت منازل پر ان گنت اتفاقات کا وجود تسلیم کرنا پڑے گا۔یہ نظریہ تسلیم کرنے کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسے کہا جائے کہ تاج محل اس طرح بنا