خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 323

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 323 غزوات النبی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء جہاں تک میں نے نظر ڈالی ہے مجھے انسانی جنگوں کی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔بظاہر یہ ایک خطرناک فیصلہ تھا۔لیکن بنظر غائر دیکھو تو دراصل یہی وہ فیصلہ تھا جس نے لشکر قریش کے سب منصوبے خاک میں ملا دیئے اور جنگ کے شروع کے ایک دو گھنٹے ہی میں مسلمانوں کو ان پر ایک نمایاں فتح حاصل ہوئی۔احد کی لڑائی سے پہلے تو کسی کے وہم وگمان میں بھی اس کی حکمتیں نہیں آسکتیں تھیں۔لیکن اب جبکہ تاریخ نے بعد کے پیش آمدہ واقعات کھلی کتاب کی طرح ہمارے سامنے رکھ دیئے ہیں صاف نظر آجاتا ہے کہ آنحضور کا یہ فیصلہ فن حرب کی حکمت عملی کی ایک ایسی درخشندہ مثال ہے جس کی راہ میں اگر ایک اور نا گہانی روک حائل نہ ہو جاتی تو اس روز بغیر کسی قابل ذکر نقصان کے مسلمانوں کو کفار پر ایک فتح نمایاں نصیب ہو جاتی۔احد کو اپنے عقب میں رکھ کر آنحضور نے اپنی مختصر فوج کو جو دشمن کے تین ہزار جوانوں کے مقابل پر صرف سات صد تھی اور دوصد سواروں کے مقابل پر صرف دو سواروں پر مشتمل تھی۔جنگی نوعیت کی متعدد فوقیتیں دلوا دیں۔اوّل: یہ فیصلہ کشتیاں جلانے کے مترادف حالات پیدا کر رہا تھا۔اس بات کا اعلان تھا کہ مسلمانوں کے لئے دوران جنگ مدینہ میں بغرض پناہ داخل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔دوم : کفار کی سوار فوج کے لئے اپنی تیز رفتاری سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو گھیرے میں لینے یا عقب سے حملہ کرنے کا امکان ختم ہو گیا۔صرف ایک درہ مسلمانوں کی پشت پر ایسا تھا جس کے راستہ دشمن کے سوار مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ آور ہو سکتے تھے لیکن وہاں آنحضور نے پچاس بہترین تیراندازوں کا ایک دستہ حضرت عبد اللہ بن جبیر کی قیادت میں اس ہدایت کے ساتھ متعین فرما دیا کہ تم نے ہر قیمت پر اس درہ کی حفاظت کرنی ہے یہاں تک کہ اگر مسلمانوں کو فتح بھی ہو جائے تب بھی اس کی حفاظت کرنی ہے اور شکست ہو جائے تب بھی اس کی حفاظت کرنی ہے۔یہاں تک کہ آنحضور نے اس دستے کو وہیں جمے رہنے اور وہاں سے کسی حالت میں نہ ملنے کی ایسی سخت تاکید فرمائی اور حکم دیا کہ اگر تم یہ بھی دیکھو کہ مسلمانوں کی لاشوں کو کوے اور چیلیں نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں تب بھی اس درہ کو نہیں چھوڑ نا اور جب تک میں خود اجازت نہ دوں یہاں سے نہیں ہٹنا۔آغاز جنگ ہی سے بار بار خالد بن ولید کا اس درہ پر حملہ کر کے ان تیراندازوں کو مغلوب کرنے کی کوشش کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ