خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 318 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 318

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت محسنوں سے محبت کرتا ہے۔318 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضور کی سیرت کا موضوع ایک بے کنار سمندر ہے۔جس کا سفر کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔آپ کی سیرت کا ہر واقعہ تہ بہ تہحسن اپنے اندر رکھتا ہے۔اس لئے کئی بار بھی اگر ایک ہی واقعہ کو دہرایا جائے تو غور کرنے سے سیرت کا کوئی نہ کوئی پہلو سامنے آجاتا ہے۔گویا آنحضور کی ذات پر یہ شعر خوب صادق آتا ہے کہ جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا یعنی اے ہمارے محبوب ہم نے تو ہر دفعہ تجھے ایک نئی شان اور نئی آن بان کے ساتھ جلوہ گر پایا۔ہر بار تجھے دیکھنے پر حسن کا ایک نیا عالم دیکھا۔تیری سیرت کے بے کنار سمندر میں مشتاق آنکھوں کا سفر کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سپہ سالار کی حیثیت سے پیشتر اس سے کہ غزوات کے شدید آزمائشوں کے دوران آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلق عظیم کا روح پرور تذکرہ کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان حالات پر کچھ نظر ڈالی جائے جن میں آپ کو یہ جنگ لڑنی پڑی اور آپ کی ان استعدادوں کا بھی کچھ ذکر چلے جو ایک عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے اس غزوہ کے دوران اس شان سے ابھر کر سامنے آتی ہیں کہ دیکھنے والے کی نظر کو خیرہ کر دیتی ہیں اور تعجب سے نگاہ اس حیرت انگیز وجود کو دیکھتی ہے جو اول و آخر ایک مصلح تھا جسے جنگ سے کوئی سروکار نہ تھا۔لیکن جب حالات کی مجبوری نے اسے جنگ کے میدان میں لا کھڑا کیا تو اس میدان میں بھی سیادت کی ایسی نرالی شان اس سے ظاہر ہوئی جو معجزے سے کم نہیں۔ہجرت کے تیسرے سال کا ذکر ہے، شوال کا مہینہ تھا ، چاند اپنی بارہ منزلیں طے کر چکا تھا کہ اچانک یہ خوفناک خبر اہل مدینہ کو ملی کہ کفار مکہ کا ایک زبر دست لشکر جو قریش کے چوٹی کے لڑنے پر مشتمل ہے مدینہ پر حملہ کی غرض سے سر پر آپہنچا ہے۔تحقیق پر معلوم ہوا کہ یہ لشکر تین ہزار جوانوں پر مشتمل ہے جو ہر طرح کے ہتھیاروں سے آراستہ ہیں اور جنگ بدر کی ذلت ناک شکست کا والوں پر