خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 317
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 317 غزوات النبوی ﷺ میں خلق عظیم ( غزوہ احد )۹۷۹۱ء غزوات النبی میں خلق و (غزوہ احد ) ( بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۷۹ء) وَكَأَيِّنْ مِنْ نَّبِيِّ قَتَلَ مَعَهُ رِبَّيُّوْنَ كَثِيرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوْا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوا وَاللهُ يُحِبُّ الصَّبِرِينَ وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (آل عمران: ۱۴۷- ۱۴۸) ترجمہ: اور بہت سے نبی ایسے ( گزرے) ہیں جن کے ساتھ شامل ہوکر (ان کی ) جماعت کے بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔پھر نہ تو وہ اس ( تکلیف) کی وجہ سے جو انہیں اللہ کی راہ میں پہنچی ست ہوئے نہ کمزوری دکھائی اور نہ تذلل اختیار کیا۔یقینا اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔سوائے اس کے انہوں نے کچھ (بھی) نہ کہا کہ (اے) ہمارے رب ہمارے قصور بخش اور اعمال میں ہماری زیادتیاں معاف فرما دے اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور کافروں کے خلاف ہماری مدد کر۔اس پر اللہ نے انہیں دنیا کا بدلہ (بھی) اور آخرت کا بہترین بدلہ (بھی) دیا۔اللہ