خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 28
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 28 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ نوعی یا جنسی تبدیلیاں پیدا ہوتی چلی جائیں اور اس طرح پیدا ہونے والی ہر تبدیلی اس میں زندہ رہنے کی زیادہ اہلیت پیدا کر دے اور اس کی حالت کو بہتر اور بہتر اور بہتر بناتی چلی جائے۔نیز یہ تبدیلی مستقل ہو عارضی نہ ہو سوائے اس کے کہ اس سے بھی بہتر کوئی تبدیلی اس کی جگہ لے لے۔اس کے علاوہ ایک آخری شرط یہ ہے کہ ترقی کے دوران میں کسی جانور کے جسم کا کوئی حصہ اس مقصد کو پورا کرنا چھوڑ دے جس کے لئے اسے ابتدا میں پیدا کیا گیا تھا تو وہ بے کا رحصہ اس جسم سے دور کر دیا جائے۔یہ ارتقائی مفہوم قرآن کریم کی اس آیت کے مفہوم کے بالکل مشابہ ہے کہ مَا نَنْسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنُسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة: ۱۰۷) ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں اس سے بہتر یا کم از کم اس جیسی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔امید ہے کہ اس مختصر سی تشریح کو سن کر احباب پر لفظ ارتقاء کا مفہوم کسی قدر واضح ہو چکا ہوگا۔اس زمانے کے تمام سائنسدان اب اس امر پر بیک آواز متفق ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ انسان کی پیدائش اسی طریق پر ہوئی ہے۔وہ صرف روزمرہ کی زندگی میں چھوٹے سے بڑا اور کمزور سے طاقتور ہو کر خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا ثبوت ہم نہیں پہنچا تا بلکہ بحیثیت جنس اس کا انسان بننا بھی صفت ربوبیت ہی کا مظہر ہے اور وہ اچانک ایک تماشا کی طرح پیدا نہیں ہوا بلکہ جیسا کہ صفت ربوبیت کا تقاضا تھا ایک لمبے عرصہ میں زندگی کے ایک حقیر ذرے سے شروع ہو کر طبقہ در طبقہ خَلْقَا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ (الزمر: ) اپنی جنس تبدیل کرتا ہو تر قی کی ان گنت منازل طے کرنے کے بعد انسانیت کے مقام تک پہنچا۔اس کی روز مرہ کی تدریجی ترقی بھی یہ گواہی دے رہی ہے کہ اس کا ایک رب ہے۔اور بحیثیت جنس اس کا انسانیت کے مقام تک پہنچ جانا بھی اس امر پر گواہ ہے کہ اس تدریجی ترقی کا ضرور کوئی رب ہے۔دراصل ایک عام ترقی سے بھی کہیں زیادہ بڑھ کر ارتقائی ترقی ربوبیت کا تقاضا کرتی ہے۔کیونکہ عام ترقی کی نسبت ارتقاء کے ذریعہ پیدا ہونے والی تبدیلیاں کہیں زیادہ حیرت انگیز ہوا کرتی ہیں اور ایک نہایت لمبے عرصہ تک ایک وجود کا اس طرح ترقی کرتے چلے جانا کہ ہر آئندہ تبدیلی