خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 27

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 27 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ خراب نہ ہو کیونکہ ربوبیت کا یہ تقاضا ہے کہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف لے کر جائے نہ کہ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف۔پس اس لحاظ سے ایک چوہے کو پر لنا تو ارتقاء کہلائے گا مگر اس کی ایک ٹانگ غائب ہو جائے تو اسے ہم ارتقاء نہیں کہہ سکتے۔اس پر تو پنجابی کی وہی مثل صادق آئے گی کہ پہلے سوا دوں وی گیا“ پہلے تو بے چارہ پھر بھی بھاگ دوڑ کر اپنی جان بچالیا کرتا تھا مگر اب اس قابل بھی نہ رہا۔اس کے علاوہ ارتقاء کی ایک اور شرط بھی ہے اور وہ بھی عین خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے مطابق ہے۔وہ شرط یہ ہے کہ ارتقاء کے نتیجہ میں جو تبدیلی بھی پیدا ہو وہ انفرادی اور عارضی نہ ہو بلکہ جنسی اور مستقل ہو۔چنانچہ اس شرط کے مطابق اگر ایک چوہے کے پر نکل آئیں اور وہ مستقل پر ہوں اور آئندہ اس چوہے کی نسل میں بھی پروں والے چوہے ہی پیدا ہوں تو اس تبدیلی کو ہم ارتقائی تبدیلی کہہ سکتے ہیں۔لیکن اس کے برعکس اگر اس کے پر تو نکل آئیں مگر اس کی اولا د غریب پروں سے محروم ہی رہے اور وہ بے پر کے بچے چھوڑ کر اسی طرح اپنے پروں سمیت مرجائے تو ایسے چوہے کو سائنس کی اصطلاح میں ارتقائی چوہا نہیں کہا جاسکتا بلکہ ایک عجوبہ روزگار چوہا کہا جائے گا جسے چڑیا گھر کی بجائے غالبا عجائب گھر میں رکھنا زیادہ موزوں ہوگا۔پس جیسا کہ صفت ربوبیت کا تقاضا ہے کہ جو نعمت رب العالمین ایک مرتبہ دے دے، اسے قائم بھی رکھے،سائنس کی اصطلاح میں بھی ارتقاء کا بعینہ یہی مفہوم ہے۔ایک آخری شرط ارتقاء کی یہ ہے کہ یہ صرف اچھی چیزیں دینے والا ہی نہ ہو بلکہ بری چیزیں دور کرنے والا بھی ہو مثلاً یہی پروں والا چوہا جس کی مثال ہم نے اپنے سامنے رکھی ہے جب اڑنے کے قابل ہو جائے تو ضروری ہے کہ اس کے جسم میں کچھ اور تبدیلیاں بھی پیدا کی جائیں مثلاً ایک لمبی اور بوجھل گوشت پوست کی دم کی بجائے ایک ہلکی پھلکی پروں کی دُم اسکو دی جائے تا کہ اڑنے میں اسے دقت نہ ہو۔پس اگر ترقی کی کسی منزل پر اس کی پہلی دم جھڑ جائے یا چھوٹی اور ہلکی ہو جائے تو اس تبدیلی کو بھی ارتقائی تبدیلی کہا جائے گا کیونکہ گو بظاہر ایک عضو کم یا چھوٹا ہورہا ہے مگر دراصل یہ اس کے فائدہ کے لئے ہے اور ایک کے اس بوجھ کو دور کیا جا رہا ہے۔پس ارتقاء کا مطلب یہ بنا کہ رب العالمین کی صفت ربوبیت کا اس رنگ میں اظہار ہو کہ ایک چیز اپنی ترقی کے دوران میں ادنیٰ سے اعلیٰ حالت کی طرف اس طرح حرکت کرے کہ اس میں