خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 306 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 306

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 306 فلسفہ حج ۷۷۹۱ بطور معراج پیدا ہوئے۔حج خود عبادت کا معراج ہے روحانی لحاظ سے بھی اور جسمانی لحاظ سے بھی جو اس میں ارتقاء ملتا ہے اس پر اگر آپ غور کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ کس طرح رفتہ رفتہ حج اس آخری مقام تک انسان کو پہنچاتا ہے جو تمام عالم کو اکٹھا کرنے کا مقام ہے۔پھر قرآن میں جو عبادتیں ہمارے لئے مقرر فرمائی ہیں ان پر آپ غور کر کے دیکھیں آپ کو صلى الله معلوم ہوگا کہ عبادت کا آغاز فرد سے ہوتا ہے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بطور فرد کے عبادت کی۔صحراؤں میں جا کر ، غار حرا میں۔پھر وہ عبادت جہاں تک انسانی سوسائٹی کا تعلق ہے ترقی کرتے ہوئے ایک اجتماعی رنگ اختیار کر گئی اور باجماعت نماز شروع ہوئی۔اس باجماعت نماز کا تعلق محلہ سے ہے۔پھر یہ باجماعت نماز ترقی کرتی ہے اور جمعہ پر منتج ہو جاتی ہے اور جمعہ کا تعلق پورے شہر سے ہے۔پھر یہ اور ترقی کرتی ہے اور عید پر جا کر منتج ہو جاتی ہے جس کا تعلق ایک بڑے علاقہ سے ہے۔پھر یہ ترقی کرتی ہے اور اس حج پر منتج ہو جاتی ہے جس کا تعلق ساری دنیا سے ہے اور تمام دنیا سے بنی نوع انسان اس ایک مقام کی طرف دوڑے چلے آتے ہیں۔اس چیز کی کوئی نظیر دنیا میں کسی اور جگہ نہیں ملتی۔تو یہ ارتقاء عبادت کا حج پر جا کر جو ختم ہوتا ہے اس پر اگر آپ غور کریں تو اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اسلام خدا کا پاکیزہ اور سچا اور آخری اور عالمی مذہب ہے۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے عیسائی دنیا کا کہ All Roads take to Rome کہ ساری سڑکیں روم ہی کی طرف جاتی ہیں۔حج اس محاورے کو کہانی بنا دیتا ہے۔واقعہ حج یہ ثابت کرتا ہے کہ اب تو ساری سڑکیں بنی نوع انسان کی مکہ ہی کی طرف روانہ ہوں گی۔ایک سمندر بن جاتا ہے وہاں بنی نوع انسان کا۔مشرق اور مغرب، شمال اور جنوب سے لوگ سڑکوں پر ، ہوائی جہازوں پر سمندر کے ذریعہ رواں دواں دریاؤں کی طرح چلتے ہیں لیکن ایسے دریاؤں کی طرح جو پانی کی طلب میں جا رہے ہیں۔ایسے خشک ذرے کہہ لیں آپ جیسے ریت کے ذرے بہہ رہے ہوں ایک طرف اس لئے کہ ان کی روحانی پیاس بجھ جائے اور یہ ساری پیاس مکہ میں جا کر بجھتی ہے۔اس لئے اگر جج کو آپ دیکھیں تو دونوں باتیں اس میں پائی جاتی ہیں عشق کے لحاظ سے کہ یہ عبادت کا معراج ہے کیونکہ عبادت کا منتہی عشق ہوا کرتا ہے۔اپنی ظاہری بناوٹ کے لحاظ سے بھی یہ اپنی عبادت کا معراج ہے اور اس میں آکر تمام بنی نوع انسان اکٹھے