خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 305

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 305 فلسفہ حج ۷۷۹۱ء انہیں اپنی اور باقی دنیا کی ضرورتوں کے متعلق غور وفکر کرنے کا موقع مل جاتا ہے اسی طرح ایک دوسرے کی خوبیوں کو دیکھنے اور ان کو اخذ کرنے کا موقع ملتا ہے۔“ حج کو مکہ میں کیوں مقرر کیا گیا؟ اس کا بھی ایک فلسفہ ہے۔دراصل بیت اللہ وہ پہلا گھر ہے جو بنی نوع انسان کی خاطر خدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا۔چنانچہ حج کا مضمون جہاں جہاں بھی قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہاں یہ آپ عجیب بات دیکھیں گے کہ یــايــا الـذيــن أمنوايا يــا ايـهـا المسلمون وغیرہ کا کہیں کوئی ذکر نہیں آتا ہر جگہ بنی نوع انسان کا الناس کے طور پر خطاب ہے مثلاً فرمایا أَذِنْ فِي النَّاسِ بِالْحَج (الحج:۸۲) لوگوں کو حج کی طرف بلا۔پھر فرمایا جَعَلْنَهُ لِلنَّاسِ سَوَاءَ الْعَاكِفُ فِيْهِ وَالْبَادِ (الحج: ۶۲) ہم نے اس کو سب لوگوں کے لئے برابر بنایا۔پھر فرمایاتم افيْضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ (البقرة :٠٠٢) یہاں بھی النـاس کا ذکر ہے۔پھر فرمایا اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ ( آل عمران:۷۹) پہلا گھر جو لوگوں کے لئے یعنی لوگوں کے فوائد کے لئے عبادت کی خاطر بنایا گیا وہ اللہ کا گھر مکہ میں ہے۔پھر فرمایا وَ اذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ (البقرۃ:۶۲۱) تو ہر جگہ الناس کا ذکر ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دراصل یہ وہ پہلا گھر ہے اور اس وقت یہ گھر بنایا گیا تھا جبکہ ابھی مذہبی اور قومی تقسیمیں نہیں تھیں۔۔۔۔۔کسی کو کرشن نے کسی کو بدھ نے کسی کو اور دوسرے مذاہب کے بانیوں نے بنایا لیکن ہر ایک کے ساتھ یا ہندو کا گھر ہو گیا یا بدھ کا گھر لگ گیا ساتھ یا زرتشت کا یا پھر کنفیوشس کا۔اگر سب دنیا کو وہ اپنی طرف بلائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ تو زرتشت کا گھر ہے ہمیں اس سے کیا غرض؟ یا یہ تو بدھ کا گھر ہے ہمارا اس سے کیا تعلق؟ لیکن وہ ایک گھر جس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ یہ فلاں کا گھر ہے اور یہ فلاں کا گھر ہے وہ وہ پہلا گھر ہی ہوسکتا ہے جب کہ مذہب کی بنیاد ڈالی گئی تھی اور ابھی بنی نوع انسان مختلف مذاہب میں ہے نہیں تھے۔اسی گھر کے ارد گرد وہ مذہب تعمیر ہونا تھا جو عالمی مذہب ہے اور اسی گھر میں رسول الناس نے پیدا ہونا تھا جس کا یہ دعویٰ تھا کہ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف:۹۵۱) اس لئے وہ ایک ہی جگہ ہے جہاں بنی نوع انسان کو اکٹھا کرنے میں کوئی حکمت نظر آتی ہے۔صلى الله چنانچہ حضرت محمد مصطفی سے وہ رسول ہیں جو خانہ کعبہ کے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے