خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 291 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 291

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 291 قیام نماز ۶۷۹۱ء چنانچہ آنحضرت ﷺ کا یہی دستور تھا آپ ہمیشہ اپنے بچوں کو اپنی بیویوں کو نماز کے بعد خود زیادہ عبادت کرتے تھے کچھ دیر کے بعد جگا دیا کرتے تھے کہ وہ بھی شامل ہوں نماز میں حضرت علیؓ کو ، حضرت فاطمہ کو اور مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اللہ اس خاوند پر رحم کرتا ہے جو خاوند نماز پڑھتا ہے اور نماز پڑھنے کے بعد اپنی بیوی کو بھی جگاتا ہے اور بیوی اگر نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر چھینٹے دیتا ہے کہ وہ ان چھینٹوں کی وجہ سے اٹھ جائے اور پھر وہ نماز میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتی ہے۔فرمایا اللہ اس بیوی پر رحم کرے گا جس کا خاوندست ہے وہ اٹھتی ہے اور وہ اپنے خاوند کے منہ پر چھینٹے دیتی ہے اور پھر اس کو بھی نماز میں شامل کر لیتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی طریق تھا۔آپ نماز کو اتنی اہمیت دیتے تھے کہ گھر میں نماز قائم رہی ہمیشہ قائم رہی آپ کی وفات تک اور آپ کے بعد آپ کی اولاد میں ایسی شان کے ساتھ قائم رہی ہے کہ وہ نمونہ جن لوگوں کو یاد ہے وہ جانتے ہیں کہ یوں لگتا ہے کہ مُحَافِظِينَ نماز کے محافظ بن کر وہ سارے کھڑے ہو گئے تھے۔حضرت اماں جان کو جس طرح نماز سے محبت تھی اور وقت پر نماز پڑھنے کی محبت تھی اس کا ذکر خود مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہتے ہیں بشیر اول جب فوت ہو رہے تھے، نزع کی حالت تھی نماز کا وقت ہو گیا اور میرے گھر سے اس کو چھوڑ کر نماز کے لئے کھڑی ہوگئیں اور ذرا پرواہ نہیں کی۔جب نماز پڑھ لی اطمینان کے ساتھ تو پوچھا کیا حال ہے؟ میں نے کہا وہ فوت ہو چکا ہے تو بڑے صبر کے ساتھ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا اور میرا دل اس یقین سے بھر گیا کہ خدا اس کی اس نیکی کو ضائع نہیں کرے گا اور اس کے بعد وہ بیٹا ضرور آئے گا جس کا مجھے وعدہ دیا گیا ہے چنانچہ اس کے ایک مہینے کے بعد مصلح موعود مرزا محمود احمد پیدا ہوئے۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ: ۳۹۲، ۳۹۳) یہ نماز کو قائم کرنا اور اس کی طرف توجہ کرنا آپ کی اولادوں کے لئے ہونا ضروری ہے یہ برکتیں آپ کی ضائع نہیں جائیں گی آپ کی نسلوں میں منتقل ہوں گی۔نیک لوگ پیدا ہوں گے اس کے نتیجہ میں۔اس لئے اگر آپ کو اپنی اولاد سے محبت ہے اگر آپ کو سلسلہ کے مستقبل سے محبت ہے تو نمازوں کو قائم خود بھی کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی قائم کرائیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ بہت کم بچوں کو مارا کرتے تھے مگر مجھے یاد ہے کہ جتنی دفعہ بھی مارا ہے نماز نہ پڑھنے پر اور کئی دفعہ