خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 290
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 290 قیام نماز ۶۷۹۱ء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے قائم فرمائی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: الصَّالِحُونَ الْخَاشِعُونَ لِرَبِّهِمُ الْبَاتِتُونَ بِذِكْرِهِ وَبُكَــاء سر الخلافہ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه : ۳۹۷) کہ یہ وہ لوگ تھے جو نیک تھے اور اپنے رب کے حضور خشوع کے ساتھ جھکا کرتے تھے الْبَائِتُونَ بِذِكْرِهِ وَبُكاء راتوں کو اٹھ کر خدا کا ذکر کیا کرتے تھے اور روتے ہوئے ذکر کرتے تھے یہ وہ لوگ تھے جو حضرت محمد مصطفی اے نے اپنے پیچھے چھوڑے۔لیکن صرف خود نماز قائم کرنا کافی نہیں ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ ہم با جماعت عبادت کرتے ہیں تیری قومی طور پر ہم تیری عبادت کریں گے بلکہ اس کو قومی عبادت قائم رکھیں گے۔اے خدا! محمد مصطفی سے کی جماعت سے تجھے ایاک اعْبُدُ کی آواز نہیں آئے گی عبادت کرنے والے یکتا اور تنہا نہیں رہیں گے ،ساری قوم پکارے گی کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ اے خدا ! یہ ساری قوم تیری عبادت کر رہی ہے اور اس کا طریق کیا ہے اس کا طریق خدا تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے کہ اس کو رائج کرو، اپنے گھروں میں رائج کر و خود نصیحت کرو، اپنے بیوی بچوں کو سمجھاؤ جب تک تم یہ نہیں کرو گے اِيَّاكَ نَعْبُدُ کا مقام تمہیں حاصل نہیں ہوسکتا۔گھروں کے ذریعہ ہی قوم بنا کرتی ہے۔بعض لوگ خود نماز پڑھ لی بچے سوئے ہوئے ہیں چلو کوئی بات نہیں رہنے ہی دو۔آرام کر رہے ہیں۔آرام نہیں کر رہے ان کو آپ سردی سے بچا نہیں رہے ان کو تو آپ آگ کے لئے تیار کر رہے ہیں۔یہ رحم نہیں ہے یہ ظلم ہے اس لئے اس بات کو مدنظر رکھیں قرآن کریم فرماتا ہے حضرت اسماعیل کا ذکر کرتے ہوئے: وَكَانَ يَأْمُرُ اَهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيَّان (مریم: ۵۶) اس کی شان دیکھو کہ وہ خود ہی نماز نہیں پڑھتا تھا بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی نماز اور زکوۃ کی تاکید کیا کرتا تھا وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيَّا یہ بات اس کی اللہ کو بہت پسند تھی بہت پیارا وجود تھا وہ خدا کی نظر میں۔