خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 278
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 278 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء کیا جا رہا ہے ہمارے اوپر اور پتھراؤ کے نتیجے میں رات گرمی میں سوتے ہیں، خاکروبوں وغیرہ کو منع کر دیا گیا ہے کہ ہمارے گھروں میں داخل ہوں اور بچے جو ہیں وہ سکول جانے سے محروم ہیں۔نکلتے ہیں گلیوں سے، پانی بند ہے۔جب ہم دور سے کہیں سے پانی لانے کی کوشش کرتے ہیں رستے میں محنت کے بعد لمبے عرصے کے بعد جب گھر پہنچنے لگتے ہیں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی نے دیکھ لیا اور ہاتھ مار کر بالٹی ہاتھ سے گرادی۔ترستے ہوئے بچے پانی کو پیچھے پیاسے کے پیاسے رہ جاتے ہیں۔پس یہ وہ عظیم الشان قربانیاں ہیں جو جماعت احمدیہ نے خدا اور اس کے دین کی خاطر کیں۔ابھی حال ہی میں جن مصائب میں سے جماعت ساری گزری ہے۔آگ کا جو نظارہ آپ نے دیکھا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ پر فضلوں کی بارش کی بالآخر وہ آپ کے سامنے ہے۔لیکن ایک بات صرف کہہ کر میں اس تقریر کو ختم کرتا ہوں کہ اس کے نتیجے میں خدا نے اپنے فضلوں کی بے انتہاء بارشیں برسائی ہیں ان سب کا ذکر تو بہت تفصیلی ہے۔صرف اس بات کو ملحوظ رکھے کہ واشنگٹن سے لے کر ماسکوتک اور لندن سے لیکر ٹوکیو تک کوئی ایک بھی ملک ایسا انہیں رہا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام نہ پہنچایا گیا ہو اس کے نتیجے میں۔ان کے ریڈیو، ان کے ٹیلیویژن ، ان کے اخبارات سارے وقف تھے ، آپ کے درد کے تذکروں کے لئے نہیں مسیح موعود کے پیغام کے لئے ، یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے۔تفصیل سے انہوں نے بڑی دیانت اور صداقت کے ساتھ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو ساری دنیا میں پھیلایا۔مجھے اس پر وہ واقعہ یاد آ گیا کہ جب قیصر کے دربار میں ابوسفیان کو حاضر کیا گیا آنحضرت کے متعلق پوچھنے کے لئے ، وہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔باہر نکلا تو اس نے بڑی حسرت سے کہا کہ دیکھو مکہ کا ایک یتیم ، اس کی خبر کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔آج قیصر کے دربار میں اسکی باتیں ہونے لگیں۔میں نے سوچا کہ مکہ کے اس یتیم کے غلام کے غلاموں کی بات آج کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے۔سب دنیا کے درباروں میں ان کے تذکرے ہورہے ہیں۔کوئی دنیا کا ملک ایسا نہیں جو محبت اور پیار کے ساتھ ان کی قربانیوں کا ذکر نہیں کر رہا اور کوئی دنیا کا ایسا ملک نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پیغام دنیا میں نہیں پھیلا رہا۔اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّد كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔