خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 279 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 279

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 279 قیام نماز ۶۷۹۱ء قیام نماز بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۷۶ء) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: نماز قائم کرنے کے متعلق قرآن کریم میں بیسیوں آیات ہیں جو اس مضمون کو مختلف رنگ میں بیان کرتی ہیں اور انسانی فطرت پر جو چیزیں بھی اثر انداز ہوسکتی ہیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختلف رنگ میں اس مضمون کو مختلف جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔لیکن ان سب آیات کی کنجی سورہ فاتحہ میں ہے اور ان تمام مضامین کا خلاصہ سورۂ فاتحہ کی ایک آیت میں درج ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ:۵) اے آقا ! ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں لیکن یہ توفیق نہیں پاسکتے جب تک تو مدد نہ فرمائے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ اس لئے تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحہ (1) اس عبادت کے نتیجہ میں جو انعامات اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں ان کا ذکر اس اگلی آیت میں کر دیا کہ جب اس رنگ میں ان شرائط کے ساتھ تم عبادت کو قائم کرو گے تو پھر اگلی دعا بے اختیار زبان حال سے تمہارے دلوں سے اور تمہارے جسم کے ذرے ذرے سے یہ نکلے گی کہ اے خدا ! اب اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہاں اب ہم حق دار ہو گئے ہیں کہ اس راہ پر ہمیں چلا دے جن پر تمام انعام پانے والے چلتے رہے اور سب نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی ملا نے جس راہ کو مکمل فرمایا اور جس انعام کو مکمل کیا۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں سب سے پہلا سبق تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ ہم عبادت کو قائم نہیں کر سکتے