خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 261
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 261 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء اس چندے میں دے دیئے جنگی قیمت انداز ادو ہزار روپے تک پہنچی۔تیسری مثال اسی قسم کے اخلاص کے نمونے کی سیٹھ ابراہیم صاحب کی صاحبزادی کی ہے۔اس مخلص بہن نے اپنے کل زیورات جواند از ا ایک ہزار روپے کی قیمت کے ہوں گے چندے میں دے دیئے۔چوتھی مثال اعلیٰ درجہ کے اخلاص کی خان بہادر محمد علی خان اسسٹنٹ پولیس پولیٹیکل آفیسر چکدرہ کی ہے انکی اہلیہ اور دختر نے اپناز یور جسکی قیمت انداز ایک ہزار روپیتھی ، چندہ میں دیا۔خان بہادر صاحب کی اہلیہ نے تو اپنی مرحومہ دختر کا زیور بھی جو انہوں نے بطور یادگار رکھا ہوا تھا وہ بھی اس راہ میں فدا کر دیا۔پانچویں مثال میاں عبداللہ سنوری ریاست پٹیالہ کی بیوی اور بیٹی اور بہو کی ہے جنہوں نے بہت محدود ذرائع آمد کے باوجود دوسوروپے سے اوپر چندہ بصورت نقد اور زیور دے دیا۔“ ( الفضل یکم مارچ ۳۲۹۱ء) پھر آپ فرماتے ہیں: کہ یہ بھی ایمان کی علامت ہے کہ کئی لوگ لکھ رہے ہیں کہ آپ دعا فرمائیں کہ میری بیوی چندہ دینے میں کمزوری نہ دکھا جائے۔پھر بعض لکھ رہے ہیں کہ وفات یافتہ بیوی کی طرف سے بھی چندہ دینے کی اجازت دی جائے۔غرض یہ ایسا نظارہ ہے کہ جو اپنی نظیر نہیں رکھتا اور جس کا نمونہ صحابہ رضوان اللہ علیھم کے زمانہ میں ہی پایا جاتا تھا۔“ حضرت منشی امام الدین صاحب ابتدائی صحابہ میں سے تھے۔جب مسجد فضل لندن کی تحریک ہوئی تو ان کی بیوی نے صرف ایک زیور والدہ مرحومہ کی نشانی کے طور پر جور کھا ہوا تھا وہ رکھ کر باقی سارا زیورا اپنی خوشی سے پیش کر دیا۔اہلیہ ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب نے لندن مسجد کے لئے دس اشرفیاں دیں۔یہ اہلیہ ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب مرحوم میری نانی تھیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ سب لوگ جو اپنے والدین کا یا دادیوں کا یا نانیوں کا ذکر پڑھ رہے ہوں گے ہن رہے ہوں گے یا پڑھتے ہوں گے، انکے فخر کی اصل وجہ یہ ہوگی، یہ نہیں کہ وہ خاندان کتنا اونچا تھا ، یہ نہیں کہ انکے پاس اموال