خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 262
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 262 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء کتنے تھے بلکہ ہمیشہ انکے لئے فخر کا معیار اب یہ بن جائے گا کہ ہماری نانی نے یہ دے دیا ، ہماری دادی نے یہ دے دیا، ہمارے نانا نے یہ قربان کیا، ہمارے دادا نے یہ قربان کیا۔تو یہ جو فخر ہے کہ انہوں نے دس اشرفیاں میری اُمی مرحومہ کی شادی کے لئے رکھی ہوئی تھیں وہ انہوں نے اس راہ میں قربان کر دیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا : ” مرد اور عورت اور بچے سب ایک خاص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے۔کئی عورتوں نے اپنے زیورا تار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا۔پھر بھی جوش کو د بتانہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔“ (تواریخ مسجد فضل لندن صفحه : ۲۲) یہ تو قادیان کے قرب وجوار کا حال تھا۔دور کی جماعتیں بھی خدا کے فضل سے یہ نمونے دیکھ کر اسی طرح آگے بڑھیں۔میں چند مثالیں پیش کر رہا ہوں سینکڑوں، ہزاروں مثالیں ہیں جن میں سے صرف چند ایک اختیار کی گئیں ہیں۔ڈاکٹر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی ایڈیٹر روز نامہ اتفاق دہلی لکھتے ہیں۔کس تفصیل سے عورتوں نے قربانیاں دی ہیں وہ اندازہ کیجئے : جمعہ کی نماز جماعت دہلی خاکسار کے دفتر میں پڑھتی ہے جواب سڑک واقع ہے۔گزشتہ جمعہ کو خطیب نے حضرت اقدس کا خطبہ جو الفضل میں چھپا ہوا تھا سنایا۔یہاں سوائے میری اہلیہ کے باقی تمام مرد تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ بیگم سے نماز کے بعد کہوں کہ مسجد کے لئے آپ اپنی پازیب دے دیں (جو پاؤں کا زیور ہوتا ہے )۔اتنے میں دروازہ کی کھٹکھٹاہٹ میرے کان میں آئی اور میں گھر میں گیا جہاں وہ مصلے پر بیٹھی ہوئی خطبہ سن رہی تھیں اور انکی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔کچھ بات نہیں کی اور اپنے گلے سے پنچ لڑا طلائی ہار جو غالبا تمیں روپئے کا تھا مجھے دے دیا۔“ (سوانح فضل عمر جلد ۲ صفحہ ۱۵۳) مردوں کی قربانیاں بھی کسی سے پیچھے نہیں تھیں۔وہ میدان جہاد میں تو دیں اس کا بعد میں