خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 260
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 260 اشاعت اسلام کے لئے جماعت احمدیہ کی جانفشانیاں ۵۷۹۱ء رات مہمانوں نے سالن کھایا۔(اصحاب احمد جلد ۴ صفحہ: ۸۰۱) ان کو کیا پتہ تھا کہ یہ کیسا مبارک اور کیسا مقدس سالن ہے جو آج کھایا جا رہا ہے۔دوسرا اسی غلام نے جس نے یہ روایت کی ہے ، حضرت منشی ظفر احمد صاحب، انہوں نے خود یہ رنگ پکڑا۔حضرت مسیح موعود کو اشتہار کے لئے ضرورت پیش آئی ساٹھ روپے کی اور مثال سامنے تھی گھر گئے جماعت سے ذکر بھی نہیں کیا اور اپنی بیوی کا زیور لیکر فروخت کیا اور ساٹھ روپے حضرت مسیح موعودؓ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔(اصحاب احمد جلد ۴ صفحہ: ۸۵،۷۵) حضرت خلیفہ اسی الثانی نے اسی مثال کو زندہ کرتے ہوئے اپنے گھر میں بھی جاری فرمایا اور پھر جماعت میں تو اس کثرت سے یہ مثالیں پھیل گئیں کہ انکا ذکر تفصیل کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔اخبار الفضل جاری کرنا تھا۔آج جو آپ پڑھتے ہیں بڑے شوق اور محبت کے ساتھ کوئی پیسہ پاس نہیں تھا، کوئی مددگار ایسا نہیں تھا جو اتنی رقم خرچ کر سکے۔اپنی پہلی حرم حضرت سیدہ ام ناصر کے پاس گئے اور انکا جو کچھ زیور تھا یہاں تک کہ اپنی بچی ناصرہ بیگم کے لئے جو انہوں نے زیور رکھا ہوا تھا وہ بھی انہوں نے لے لیا اور یہ سارے کا سارا فروخت کر کے آپ نے الفضل کو جاری کیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں کہ ہمیشہ مجھے یہ قربانی یا د رہتی ہے اور میرے دل میں ہمیشہ اس قربانی کی وجہ سے انکا بڑا بھاری احترام رہتا ہے کہ جماعت کی ایک عظیم الشان ضرورت کو پورا کیا جو قیامت تک کے لئے دور رس نتائج رکھتی ہے۔(سوانح فضل عمر جلد ۱ صفحہ: ۹۳۲، ۰۴۲) اب یہ تو ہیں چند ابتدائی ذکر اب سنئے کہ ساری جماعت کی عورتیں کس طرح اس راہ میں اپنی جانیں اور زیور فدا کرتی رہیں۔مسجد برلن کی تحریک ہوئی۔حضرت خلیفہ لمسح الثانی اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: قادیان سے باہر کے خاص چندوں میں سب سے اول نمبر پر کپتان عبد الکریم صاحب ہیں، سابق کمانڈرانچیف ہیں یہ ، ان کی اہلیہ کا چندہ جنہوں نے اپنا کل زیور اور اعلیٰ کپڑے قیمتی خدا کی راہ میں دے دیئے ، ڈیڑھ ہزار روپے بنا۔یہ دے کر انہوں نے ایک نیک مثال قائم کی ہے۔اسی قسم کے اخلاص کی دوسری مثال چوہدری محمد حسین صاحب صدر قانون گوسیالکوٹ کے خاندان کی ہے۔انکی بیوی ، بھاوج ، بہونے اپنے زیورات قریباً سب کے سب