خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 22

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 22 22 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۰ کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه: ۵۲) جوں جوں آپ اپنی بساط کے مطابق ان اسرار کا دفتر پڑھتے چلے جائیں گے اپنے خالق کے حسن کے نئے نئے نظارے آپ پر روشن ہوتے چلے جائیں گے۔اس عقدہ دشوار کا حل کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں۔کوئی ان اسرار کا سارا دفتر نہیں پڑھ سکتا مگر جوں جوں آپ عقدوں کی اس لا متناہی زنجیر کی گرہ کشائی کرتے چلے جائیں گے آپ کے اور خالق کے درمیان سے نت نئے حجاب اٹھتے چلے جائیں گے۔اسرار کے جس دفتر کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی نظم میں فرمایا ہے اس دفتر کی ایک مسل ارتقائے انسانی کی مسل ہے۔انسان ہو یا حیوان یا نباتات تمام زندہ چیزوں کی پیدائش کے متعلق دو ہی اہم نظریات ہیں جن میں سے ایک کو بہر حال غلط اور ایک کو درست قرار دینا پڑے گا۔ایک نظریہ اچانک پیدائش کا نظریہ ہے اور ایک ارتقائی پیدائش کا نظریہ۔اچانک پیدائش کے نظریہ کے مطابق مختلف قسم کے جاندار اچانک اپنی مکمل صورت میں ہی پیدا ہوئے۔یا اس قد رتھوڑے عرصہ میں کہ گویا دیکھتے دیکھتے پیدا ہو گئے۔انسان کیچڑ میں سے اٹھ کھڑا ہوا ، مینڈک دلدل میں سے، کیڑے مکوڑے کھا دیا گو بر میں سے اور جوئیں پسینے میں سے۔قدیم ترین زمانہ سے لے کر گزشتہ صدی تک کے تمام فلسفی اور سائنسدان خواہ وہ دنیا کی کسی قوم سے بھی تعلق رکھتے ہوں اسی نظریہ کے قائل رہے ہیں۔چنانچہ سیزیر(Julius Caeser) بھی اسی نظریہ کا قائل تھا اورارسطو (Aristotle) بھی اور افلاطون (Plato) بھی اور چینی فلاسفر بھی اسی نظریہ کے قائل تھے اور ہندی فلاسفر بھی۔اسی طرح مشرق وسطی اور یورپ کے فلسفہ دان بھی اسی نظریہ کے قائل تھے۔گویا کہ رسول اللﷺ کے عہد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی تقریباً تیرہ سو برس تک بالا تفاق دنیا کا یہی نظریہ رہا کہ زندہ چیز میں اسی طرح اچانک بغیر کسی لمبے زمانے کی تدریجی ترقی کے پیدا ہوئیں۔چنانچہ اس زمانے کا عظیم المرتبت ماہر حیاتیات روسی سائنسدان او پارین (Aleksandr Ivanocvich Oparin) اپنی کتاب The Origin