خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 23
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 23 ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱ of Life on the Earth میں لکھتا ہے: زندہ چیزوں کی اچانک پیدائش کا نظریہ ہمیں ہر قوم اور ہر زمانہ میں ملتا ہے اور قدیم ترین زمانے سے شروع کر کے آج تک کے زمانہ میں پایا جاتا ہے۔پس فلسفہ دانوں اور مفسرین کا اس مسئلہ پر اجماع ایک عظیم الشان اجماع ہے۔کیونکہ گزشتہ صدی سے پہلے ہر ملک اور ہر زمانہ کے اہل علم بالا تفاق اس مسئلہ کے قائل تھے۔ہاں اس کی تفصیلات میں انہیں جزوی اختلافات ضرور تھے۔اگر چینی باغ کی نو نہال شاخوں کو نمدار موسم میں زمین میں گاڑنے سے نئے جاندار پیدا ہوتے ہوئے دیکھتے تھے تو ہندوستانی فلسفہ دانوں کو گوبر سے کیڑے مکوڑے، چھپکلیاں، مینڈک اور اپنے پسینے سے جوئیں بنتی ہوئی نظر آتی تھیں۔اسی طرح مصر کا مشاہدہ یہ تھا کہ دریائے نیل کی پھینکی ہوئی مٹی سے مینڈک چھپکلیاں اور دوسرے جاندار پیدا ہوتے ہیں۔اور اہل یورپ کا بھی یہی یقین تھا چنانچہ میسپئیر (William Shakespeare) کے مشہور ڈرامہ Anthony and Cleopatra میں جب دریائے نیل کے کیچڑ سے مگر مچھ بنتے ہوئے دکھائے جاتے تھے تو سارے انگریز تماشائی اس پر ایمان لے آتے تھے کیونکہ مگر مچھوں کی تو پیدائش کے متعلق ان کا اپنا نظریہ بھی بعینہ یہی تھا۔اس کے علاوہ سکاٹ لینڈ میں یہ خیال رائج تھا کہ بعض پودوں سے مرغا بیاں اڑتی ہیں اور یورپ کے بعض معتبر سیاح یہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے ایران میں وہ پودا دیکھا ہے جس پر بڑے بڑے کدوؤں کے برابر بھیڑیں اور مینڈھے لگے ہوتے تھے جو اسی پودے کے اردگر دشاخ سے بندھے ہوئے گھاس چرا کرتے تھے۔پس اگر چہ اس نظریہ کی تفصیلات مختلف تھیں مگر بہر حال نظریہ یہی تھا کہ زندگی اچانک مکمل صورت میں دریا کی مٹی ، یا درختوں یا گوبر وغیرہ سے نکل کھڑی ہوئی۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جتنا شاندار اجماع گزشتہ تمام فلسفیوں کا اس نظریہ پر تھا اتنا ہی شاندار اجماع اب موجودہ سائنسدانوں کا اس امر پر ہے کہ یہ نظریہ بالکل غلط، بے معنی اور بے بنیاد ہے اور اس زمانہ کے تمام سائنسدان بالاتفاق اس حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں کہ انسان اور حیوان اور اسی طرح زندگی کی دوسری اقسام کی پیدائش علیحدہ علیحدہ اچانک حادثات کے نتیجہ میں نہیں ہوئی بلکہ ایک منظم سلسلہ پیدائش کی کڑیوں کے طور پر ہوئی ہے۔