خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 21
ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالی ۲۶۹۱۰ تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت شاعر کے دل سے تو یہ آواز اٹھتی ہے کہ 21 21 جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟ سبزه و گل کہاں سے آئے ہیں ؟ ابر کیا چیز ہے، ہوا کیا ہے ؟ یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں غمزه و و عشوه , ادا کیا ہے؟ شکن زلف امبریں کیوں ہے؟ نگه چشم سرمہ سا کیا ہے؟ دیوان غالب صفحه: ۲۵۱ ۲۵۲) لیکن ان عجائبات قدرت کا نظارہ خدا کے ایک مومن کامل کے لئے نا قابل حل سوالات کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتا بلکہ معین پیغام بن کر آتا ہے اور اس کا دل حمد و ثناء کے گیتوں سے بھر جاتا ہے جس کی صدا د نیا کو یوں سنائی دیتی ہے کہ چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا چشم مست ہرحسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خمدار کا اُس بہار حسن کا دل میں ہمارے جوش ہے مت کرو کچھ ذکر ہم سے ترک یا تا تار کا