خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 243
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 243 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ء میں خدا نے خود اپنی روح کو پھونکا، جسے تم خود روح اللہ تسلیم کرتے ہوا گر وہ خدا کا بیٹا نہیں تھے تو اور کیا تھے؟ اس دلیل کے مقابل پر دیگر علماء سخت عاجز تھے اور آج تک عاجز ہیں۔عیسائی پادریوں کے اس ہتھیار سے زخمی ہو کر لاکھوں مسلمان اسیر عیسائیت ہو گئے اور کسی میں طاقت نہ تھی کہ اس ہتھیار کی ہلاکت آفرینی کا مقابلہ کر سکے۔تب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جرى الله في حلل الانبیاء تشریف لائے ، اپنے ہاتھوں میں علم اسلام کو تھاما اور خدا سے خبر پا کر یہ پر شوکت اعلان کیا کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے۔یہ اعلان عیسائی کیمپ پر ایک آسمانی بجلی بن کر گرا اور اس عظیم انکشاف نے یک دفعہ میدان کارزار کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیاوہ جو حملہ آور تھے شدید تر حملوں کی زد میں آگئے ، وہ جو پسپا کر رہے تھے پسپا ہوئے ، اسیران صیادر ہا ہوئے اور صیاد دام اسیری میں الجھ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس برہان قاطعہ کو اس شان اور قوت کے ساتھ استعمال فرمایا اور ایسے تابڑ توڑ حملے عیسائیت پر کئے کہ صلیب کی گویا کمر توڑ کر رکھ دی۔یہ محض ایک دعوی نہیں، عیسائیت کوشکست دینے کی خاطر فقط ایک منطقی حربہ نہیں تھا جسے کسی ہوشیار مناظر نے اپنی اعلی مہارت سے بیٹھے بیٹھے گھڑ لیا ہو یہ مذہبی اور علمی دنیا کا ایک عظیم انکشاف تھا اس کے آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں ٹھوس نا قابل تردید شہادتوں کے کڑے پہرے تھے۔اس انکشاف کی تائید میں آپ نے بائبل کو گواہ ٹھہرایا تو قدیم اور جدید صحیفے ورق در ورق وصال ابن مریم کی گواہی دینے کے لئے چل پڑے۔آپ نے تاریخ عہد عیسوی کو گواہ ٹھہرایا تو تاریخ عہد عیسوی دست بستہ شہادت کے لئے آگے بڑھی۔آپ نے عقل انسانی اور علوم ظاہری کو شہادت کے لئے پیش کیا تو عقلی اور سائنسی دلائل ہجوم در ہجوم دوڑے چلے آئے اور گروہ در گروہ نعرہ زن ہوئے کہ عیسی ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے۔آپ نے قرآن سے فیصلہ چاہا تو سنو کہ میں محکم آیات کی عدالت عالیہ نے وفات مسیح پر اپنی مہر ناطق ثبت فرمائی۔محض یہ کہہ دینا کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ایک معمولی اور آسان سی بات نظر آتی ہے لیکن ذرا اس طرف بھی نگاہ فرمائیے کہ دنیا کی دوسب سے بڑی مذہبی قوموں کے ایسے مسلمہ (عقیدہ) کے بر عکس اعلان کرنا جس پر وہ صدیوں سے جسے بیٹھے تھے کوئی معمولی ہمت کا کام نہ تھا۔کہنے کو تو یہ آسان بات تھی لیکن ذرا غور فرمائیے کہ تمام ہمعصر علماء اسلام کے متفق علیہ عقیدہ کو قرآن و حدیث کے