خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 242 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 242

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 242 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ ہے بلکہ وہ پہلی زبان ہے جسے خدا تعالیٰ نے الہاما انسان کو سکھایا اور دنیا کی تمام دوسری زبانیں اسی زبان سے نکلیں اور اسی کی بگڑی ہوئی صورتیں ہیں۔پھر آپ نے یہ بھی ثابت فرمایا کہ سنسکرت بھی عربی ہی سے نکلی ہے لیکن جن ہاتھوں میں اس نے پرورش پائی وہ اتنے بھونڈے اور بے سلیقہ تھے کہ نقل کی بھی عقل نہ رکھتے تھے لہذا اسنسکرت عربی کی بگڑی ہوئی صورتوں میں ایک بہت ہی ادنی اور ذلیل مقام کھتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور ہندومت کے رہنماؤں کے درمیان وید یا قرآن کی فضیلت کے موضوع پر جو طویل معر کے ہوئے ان میں سے صرف ایک نمونہ میں نے سامعین کے سامنے پیش کیا ہے۔اس طویل معرکہ آرائی کا نتیجہ بالآخر کیا نکلا؟ وہ مجھ سے نہیں بلکہ ایک ہندوراہنما کی زبان سے سنئے۔کتاب ”ہندو دھرم اور اصلاحی تحریکیں“ کے مصنف اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے: آریہ سماج کا مسلمانوں کے ایک تبلیغی گروہ یعنی قادیانی فرقے سے تصادم ہو گیا۔آریہ سماج کہتی تھی کہ وید الہامی ہے اور سب سے پہلا آسمانی صحیفہ ہے اور مکمل گیان ہے۔قادیانی کہتے تھے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور حضرت محمد خاتم النبین ہیں۔اس کد و کاوش کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی عیسائی اور مسلمان اب مذہب کی خاطر آریہ سماج میں داخل نہیں ہوتا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے اہم مخاطب بلکہ اہمیت کے لحاظ سے اولین مخاطب کہنا چاہئے عیسائی تھے جن کے مذہب کی بنیاد ہی اس عقیدے پر تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام ما فوق البشر طاقتوں کے حامل تھے اور ابدی زندگی اور رفع الی السماء کے دو ایسے امتیازی نشانات ان کو عطاء ہوئے کہ کبھی کسی بشر اور رسول کو یہ نشانات عطا نہیں ہوئے۔بدقسمتی سے چونکہ مسلمان بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اپنے خا کی جسم کے ساتھ آج تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں لہذا اس دلیل کا کوئی شافی جواب ان کی پاس نہیں تھا۔حضرت مسیح کا بن باپ کے پیدا ہونا مسلمانوں کی مشکلات میں مزید اضافے کر رہا تھا۔عیسائی پادری الوہیت مسیح کی تائید میں دلائل کی یہ تثلیت پیش کیا کرتے تھے کہ دیگر بشر رسولوں سے ممتاز، غیر طبعی زندگی پانے والے، جسم سمیت آسمان کی طرف پرواز کر جانے والے وہ روحانی وجود جن کی پیدائش ابنائے آدم کی لمس سے پاک تھی، جن