خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 244 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 244

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 244 اسلام کا بطل جلیل ۴۷۹۱ء قطعی دلائل سے غلط ثابت کرنا بھی کیا کوئی آسان بات تھی؟ کیا یہ آسان بات تھی کہ عہد نامہ قدیم ہی سے نہیں بلکہ عہد نامہ جدید کی رو سے بھی وفات مسیح کو ثابت کیا جائے جسے حیات مسیح کی واحد سند کے طور پر پیش کیا جاتا تھا عیسائیت کے خلاف آپ کے پیش کردہ سینکڑوں دلائل میں سے ایک دلیل تھی۔عقل دنگ رہ جاتی ہے یہ سوچ کر کہ اس ایک دلیل کے پیچھے تحقیق اور جستجو پر آپ کو کتنی محنت شاقہ خرچ کرنی پڑی ہوگی اور کتنی راتوں کے دیئے آپ نے جلائے ہوں گے۔مذہبی اور تاریخی، علمی اور عقلی عقلی اور نقلی سینکڑوں تائیدی دلائل آپ کی پیش کردہ اس ایک دلیل کے آگے اور پیچھے چپرا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پس یہ جدید اور بے مثل نظریاتی ہتھیار جو آپ نے لشکر اسلام کو عیسائیت پر یلغار کے لئے فراہم کیا تائید غیبی اور نصرت الہی کا ایک انقلاب آفریں چمکتا ہوا اعجاز تھا صرف اسی ایک مسئلے پر آپ کی تحقیق کی وسعت اور جستجو کا انہاک ملاحظہ فرمائیے کہ مختلف پہلوؤں سے وفات مسیح کے سینکڑوں دلائل پیش کرنے پر ہی بات ختم نہیں فرمائی بلکہ پہلے تو عیسائیت کے مصنوعی خدا کو آسمان سے زمین پر اتارا اور پھر مریم کے بیٹے اس حقیقی عیسی کی تلاش شروع فرما دی جو خدا کا ایک مقدس رسول تھا اور بنی اسرائیل کی طرف سے اپنے رب کا پیغام لے کر آیا تھا یعنی اس حقیقی رسول کی تلاش شروع کی جس کی شخصیت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ایک فرضی عیسیٰ آسمان پر جا بیٹھا تھا اور وہ خود واقعہ صلیب کے بعد سے عملاً گوشہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا اور انیس سو سال سے کچھ پتا نہ تھا کہ اس سخت مظلوم نبی پر کرب و بلائے صلیب کے بعد کیا گزری اور وہ کس حال میں کہاں گیا ؟ بڑا مشکل کام تھا بڑا ہی مشکل کام تھا۔جب سے دنیا بنی ہے گمشدگان کی تلاش بھی بنی آدم کو رہی ہے لیکن جب سے دنیا بنی ہے کسی تلاش کرنے والے کو ایسی کٹھن مہم در پیش نہ آئی ہوگی کہ انیس سو سال سے پہلے کے ایک گمشدہ وجود کو تلاش کرے۔عقل انسانی اسے ناممکن اور محال قرار دیتی ہے لیکن سنو اور اپنے رب کی تکبیر کرو کہ حمد مصطفیٰ احمد م کا غلام اسلام کا بطل جلیل آگے بڑھا اور اس ناممکن کام کوممکن کر کے دکھا دیا اور اس مظلوم نبی کے مدفن اور آخری آرام گاہ کو تلاش کر لیا جو انیس صدیاں قبل اپنی قوم کے ظلم وستم سے تنگ آکر اور دکھوں والی صلیب کے چنگل سے رہائی پاکر ایک چشموں والی پر امن پہاڑی وادی کی طرف ہجرت کر کے چلا گیا تھا۔بلاشبہ یہ تحقیق اور دریافت کی دنیا کا ایک عظیم شاہکار تھا۔اس وقت سے لے