خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 207 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 207

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 207 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء عبادت کا عزم رکھتے ہیں اور اپنی بساط کے مطابق اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ تیری مدد اور تیرے سہارے کے بغیر یہ ممکن نہیں۔پس تجھ سے ہاں تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔یہاں یہ یا درکھنا چاہئے کہ نماز کی بے ذوقی اور بے لطفی دور نہیں ہوسکتی جب تک نماز میں عشق اور محبت کے جذبات پیدا نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا خود اُسی کی دی ہوئی توفیق کے بغیر ممکن نہیں۔چنانچہ سورہ فاتحہ میں جو دعا مانگی جاتی ہے اس کے دوسرے حصہ یعنی صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا مطلب یہ بنے گا کہ اے اللہ ! ہمارے دل میں سوز و گداز پیدا کر ، عشق و محبت کے شعلے بھڑ کا ! کچھ ہمیں بھی تو لطف آئے تیری عبادت کا۔بہت سنتے ہیں کہ تیرے پیارے محمد عربی ﷺ نے تیری عبادت کے بہت لطف اٹھائے ، بہت سنتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لذتوں کا معراج بھی نماز ہی میں تھا۔پس اے محبوب از لی وابدی! ہم پر بھی تو نظر عنایت ہو، ہم پر بھی کچھ نگاہ لطف ڈالی جائے! کیا بارا تیں دیکھنا ہی ہمارے مقدر میں ہے اور کبھی خود دولہا نہیں بنائے جائیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کو مکمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نماز کیا چیز ہے؟ نماز اصل میں رب العزت سے دعا ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ عافیت اور خوشی کا سامان مل سکتا ہے جب خدا تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اس وقت اسے حقیقی سرور اور راحت ملے گی۔اس وقت سے اسے نمازوں میں لذت اور ذوق آنے لگے گا جس طرح لذیذ غذاؤں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گر یہ وبکا کی لذت آئے گی اور یہ حالت جونماز کی ہے پیدا ہو جائے گی۔اس سے پہلے جیسے کڑوی دواؤں کو کھاتا ہے تا کہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں۔اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذت اور ذوق پیدا ہو ) یہ دعا کرے کہ اے اللہ ! تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نا بینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مردہ حالت میں ہوں