خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 208 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 208

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 208 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجاؤں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گالیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے۔تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا اُنس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے تو ایسا فضل کرکہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جاملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام اختیار کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر ایسا آئے گا کہ اس بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقت پیدا کر دے گی۔“ (الحکم مؤرخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ء) قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور آیات اور اس کی پیدا کردہ کا ئنات پر غور کرتے رہنے سے عبادت کے قیام میں بڑی مددملتی ہے اور کوشش اور تکلیف کے بغیر ہی دل سے ایسی بے اختیار اس کی حمد پھوٹتی ہے جیسے چٹانوں کا سینہ پھاڑ کر پہاڑی چشمے اہلنے لگتے ہیں۔چنانچہ بڑی کثرت اور تاکید کے ساتھ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں تخلیق عالم، آفاق اور خود اپنے نفوس پر غور کرنے کی تلقین فرماتا ہے اور قرآن صفات باری تعالیٰ کو اس حسین اور دلکش پیرائے میں بیان فرماتا ہے کہ دل حمد و ثناء کے گیت گانے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے بڑا پیار اور بڑا وقار دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔جولوگ زمین و آسمان کی پیدائش پر غور کرتے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ بے اختیاران کی توجہ اپنے رب کی طرف پھر جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی آیات ان کو یاد دلائی جاتی ہیں تو تسبیح اور حمد کرتے ہوئے وہ سجدوں میں گر جاتے ہیں۔پھر نہ صرف یہ کہ عبادت ان پر گراں نہیں گزرتی بلکہ فرمایا: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجده: ۱۷) یعنی راتوں کو بھی ان کو خدا کی یا دستاتی ہے۔ان کے پہلو بستروں سے خود بخود جدا ہو جاتے ہیں اور وہ اپنے رب کو خوف اور طبع کے ساتھ پکارتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ملفوظات جلد چہارم میں درج ہے کہ عرب صاحب نے عرض کیا کہ میں نماز پڑھتا ہوں مگر دل نہیں