خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 203 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 203

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 203 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء کے اہتمام کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے مقصود کو نہ بھولے اور دنیا کے دھندوں کو ثانوی حیثیت دینے کا شعور اس میں بیدار ر ہے۔ان امور پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت باجماعت نماز کا قیام اور مسجدوں کی آبادی قیام الصلوۃ کی حقیقت میں داخل ہے اور اس پر جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے۔آنحضوع ہے کے ارشادات اور سنت سے یہ ثابت ہے کہ مومن مردوں کے لئے شرعی عذر کے بغیر باجماعت نماز صلى الله سے غیر حاضر رہنے کا کوئی جواز نہیں۔صبح اور عشاء کی نماز سے غیر حاضر ہونے والوں کو آنحضوع ہے نے منافق قرار دیا اور یہاں تک فرمایا کہ اگر اجازت ہوتی تو میں لکڑی کے گٹھے سروں پر اٹھوا کر ایسے لوگوں کے گھروں تک پہنچتا اور ان کے گھروں کو آگ لگا دیتا۔( صحیح بخاری کتاب الاذان باب فضل العشاء في الجماعة ) یہ قول کسی سخت دل انسان کا نہیں بلکہ اس حلیم و کریم رشک انسانیت کا قول ہے جو مومنوں کے لهُ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبہ: (۸۲) اور کل جہانوں کے لئے رحمت تھا۔لازماً اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ ان لوگوں کیلئے آخرت کے عذاب سے ڈرتے تھے اور یہ اظہار فرمانا مقصود تھا کہ بہتر ہوایسے لوگ آخرت کی آگ کی بجائے اس دنیا ہی کی آگ میں جل جائیں۔دوسرا مفہوم اس ارشاد نبوی کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو گھر اس وقت آباد ہوں جب خدا کے گھروں کی آبادی کا وقت ہواس سے بہتر ہے کہ وہ جل کر خاکستر اور ویران ہو جائیں۔احمدی مردوں اور احمدی عورتوں کے لئے جو عبادت کی مٹتی ہوئی رسوم کو تازہ کرنے کا عہد لے کر اٹھے ہیں اس میں بھاری سبق ہے۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ جب تک امت مسلمہ نے خدا کے گھروں یعنی مساجد کو آباد رکھا امت مسلمہ کے گھر آبادر ہے اور گلستان احمد پر بہا رہی بہا تھی لیکن جب سے مساجد کو ویران چھوڑ کر گھروں کو آباد کیا گیا طرح طرح کی ویرانیوں اور ہلاکتوں نے امت کو آگھیرا۔پس قیام نماز ہی میں امت مسلمہ کی زندگی اور جان ہے اور مساجد کی آبادی ہی سے در حقیقت ہمارے گھروں کی آبادی ہے۔یہ ایک اجتماعی اور ملی فریضہ ہے جس میں ہم سب برابر کے ذمہ دار اور برابر کے شریک ہیں۔پس احمدی مردوں اور خواتین کو چاہئے کہ اس حقیقت کو کبھی فراموش نہ ہونے دیں۔وہ مرد جو خود نمازی ہیں وہ اپنے گردو پیش اپنے بھائیوں اور بچوں اور دوستوں کو تلقین کرتے رہیں اور چین