خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 202

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 202 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء کا سبق ہے۔صف بندی اور ایک ہی آواز پر اٹھنا اور بیٹھنا قومی نظم وضبط کے لئے بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں۔کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے میں اس بات کی تعلیم ہے کہ مومنوں کے دل باہم ملے رہیں اور افتراق نہ ہو۔جہاں تک شرف انسانی کا تعلق ہے باجماعت نماز یہ سبق دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں سب انسان بحیثیت انسان برابر ہیں اور حسب و نسب ، جاہ و ثروت اور خاندان یا قوم کے لحاظ سے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں ہے۔امام کی پیروی کے وقت تکبیر اور تحمید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ امام کی بڑائی ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے تابع ہے اور اس کی متابعت خدا تعالیٰ کے احکام کے تابع ہے۔کبھی بلند آواز سے قراءت اور کبھی دل میں عبادت کے الفاظ دہرانے میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ذکرائی نہ تو صرف اعلانیہ ہونا چاہئے نہ محض دل میں بلکہ سِرًّا وَ عَلَانِيَةً دونوں طرح اللہ تعالیٰ کی یاد ضروری ہے۔بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کا ذکر قوم میں ذکر الہی کی یاد کو تازہ رکھتا ہے اور خفیہ ذکر الہی ریا کاری کے خطرے سے بچاتا ہے۔باجماعت نماز فی ذاتہ بھی ایک اعلامیہ ہے جو قوم کو مجموعی طور پر نماز قائم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔اگر مساجد میں جاکر پانچ وقت باجماعت نماز پڑھنے کا نظام قائم نہ ہوتا تو نمازیوں کی جو تعداد مسلمانوں میں آج نظر آتی ہے یقیناً شاید اس کا سوواں ( ۰۰اواں) حصہ بھی باقی نہ رہتی۔نیکی با جماعت نماز کے کچھ تمدنی فوائد بھی ہیں مثلاً یہ ان بڑے لوگوں کو جنہیں قرآن کریم ”جن“ کی اصطلاح سے یاد کرتا ہے عوام الناس سے کٹ کر الگ رہنے کی اجازت نہیں دیتی اور اس پہلو سے سوسائٹی کو غیر طبقاتی یعنی Classless بنادیتی ہے۔امراء مجبور ہو جاتے ہیں کہ کم از کم روزانہ پانچ وقت اپنے خلوت خانوں سے نکل کر اپنے غریب بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ان کی تکلیف دہ حالات سے ذاتی طور پر واقف ہوں اور ہر کس وناکس کی رسائی کی حد میں رہیں۔باجماعت نماز رہبانیت کے غلط تصور کو ختم کرتی ہے اور قومی نیکیوں میں حصہ لینے پر انسان کو مجبور کرتی ہے۔باجماعت نماز ستی اور غفلت کو دور کرتی ہے اور جسمانی پاکیزگی کا اعلیٰ معیار قائم کرتی ہے۔نماز با جماعت یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب قومی اجتماعی فرائض ادا کئے جار ہے ہوں تو انفرادی کاموں پر انہیں لازما فوقیت دی جائے گی۔مساجد میں جا کر پانچ وقت نماز با جماعت