خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 200
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 200 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء بعد میں ہے سو بعد میں۔ایک باقاعدہ دستور اور نظم وضبط کی راجدھانی ہے۔یہ خاموش ذکر الہی میں مصروف نمازی اچانک ایک بار پھر الله اکبر الله اکبر کی آواز سن کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اذان میں جس خدا کی تکبیر بلند کرتے ہوئے مسجد کی طرف بلایا تھا اب اقامت الصلواۃ کی تکبیر انہیں اس کے دربار میں بالآ خر صف آراء ہونے کا اذن دیتی ہے اور امام کی آواز ایک دفعہ پھر اللہ اکبر کا اعلان کر کے نماز کا آغاز کرتی ہے۔اب نمازی جس منزل میں قدم رکھتا ہے یہ کامل تبتل کی منزل ہے یعنی دنیا سے بکلی کٹ کراب وہ اپنی تمام تر توجہات کو اپنے رب کی طرف پھیر دیتا ہے۔اللہ اکبر کے پہلے پیغام نے اس کی توجہ دنیا کی ظاہری بڑائیوں سے ہٹا کر جس خدائے اکبر کی طرف مبذول کروائی تھی اب امام کی تکبیر نے اسے اسکی چوکھٹ تک پہنچا دیا۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہر دوسرا تصور اور ہر دوسرا خیال وجود اس کے دل و دماغ سے محو ہو کر محض اور محض اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا کامل تصور اس کے وجود کے ذرے ذرے پر مسلط ہو جاتا ہے۔یہی وہ نماز ہے جو قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے مومن بندوں پر فرض کرتا ہے اور جو نیکیوں کا معراج ہے۔یہی وہ نماز ہے جو پیدائش عالم اور پیدائش جن وانس کا مقصود ہے۔یہ نماز اگر درست اور کامل اور قائم ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کا مادی بندہ اس کا روحانی بندہ بن جاتا ہے اور ظاہری عبد حقیقی عبودیت کا جامہ پہن لیتا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو نماز کی اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور جیسا کہ حق ہے اسے قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ نماز کی سب سے پہلی خصوصیت قرآن کریم یہ بیان فرماتا ہے کہ اسے محض ادا نہیں کیا جاتا بلکہ قائم کیا جاتا ہے چنانچہ ابتدائے قرآن ہی میں فرمایا : ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ) (البقرة :٢/٣) یعنی متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ، نماز کو قائم کرتے اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔آئیے اب ہم دیکھیں کہ نماز کو قائم کرنے سے کیا مراد ہے اور کیوں نماز ادا کرنے کا حکم دینے کی بجائے نماز قائم کرنے کا محاورہ بار بار استعمال ہو رہا ہے؟