خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 199 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 199

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 199 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء اذان کے مترنم الفاظ کی ہم آہنگی اور ہمسری سے متاثر نہ ہو۔لیکن اذان کے اندر اور بھی گہرے معانی اور معارف پوشیدہ ہیں۔انسان غروب آفتاب کو دیکھتا ہے اور دنیا کی بے ثباتی کا اثر اس پر پڑتا ہے اور معاذ ہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ خدا پر کوئی غروب نہیں اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔دن چھوٹا تھا تو بھی ختم ہوا۔بڑا تھا تو بھی ختم ہوا، ہر چیز محدود اور فانی ہے مگر اللہ اللہ ! ہمارا رب غیر محد دو اور لافانی ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔پس غم اور خوشی خوف اور اطمینان، امید و بیم ، فراق و وصال تنگی اور خوشحالی مصروفیت اور فراغت غرضیکہ کسی حال میں بھی انسان ہو سورج اس پر طلوع ہونے کو ہو یا غروب ہونے کو ہو ، روشنی جا چکی ہو یا آرہی ہو ، اندھیروں کا خوف غالب آجائے یا شفق صبح خود اعتمادی بحال کر رہی ہو ہر حال میں اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز اس کے لئے ایک نیا پیغام لے کر آتی ہے۔عارف ربانی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ لطیف نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ اذان کی ابتداء بھی اللہ سے ہوتی ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ پر ہے۔اس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ہر تغیر کی ابتداء بھی اللہ ہی ہے اور انتہاء بھی اللہ ہی پر ہوگی اور وہ ہر چیز پر محیط ہے۔صلوۃ کا تیسرا جز و وضو ہے۔اذان میں جو توجہ خدا کی طرف مبذول کروائی تھی بالآخر وہ نمازی بندوں کے ذہن پر غالب آگئی اور جی دنیا کے کاموں سے چھوٹنے لگا اور خدا تعالیٰ کے لئے دنیا کے دھندوں سے الگ ہو جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔اس کے دربار میں جانا ہے جو سب سے بڑا ہے اسی نسبت سے جسمانی پاکیزگی، یکسوئی اور روحانی پاکیزگی کی ضرورت ہے۔نجاست اور غلاظت تو مؤمن کے بدن سے پہلے ہی الگ تھی اب وضو اس کے ذہن میں روحانی پاکیزگی کا تصور پیدا کرتا ہے اور انسان اپنی روح کو استغفار کے پانی سے دھوتا ہوا اور ذکر الہی کرتا ہوا آخر مسجد میں خدا کے دربار میں حاضر ہو جاتا ہے۔آئیے اب ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں جہاں نمازی بالآخر ظاہری اور باطنی تیاریاں مکمل کر کے اپنے رب کی عبادت کے لئے اکٹھے ہو رہے ہیں۔زیر لب دعا کرتے ہوئے مسجد کے ہر دروازے سے کچھ نمازی داخل ہورہے ہیں جو اپنے سے پہلے پہنچے ہوؤں کو سلام پہنچا کر با ادب قطار در قطار بیٹھنے لگتے ہیں۔امیر اور غریب ، سردار اور غلام کا کوئی فرق نہیں جو پہلے ہے سو پہلے ہے اور جو