خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 201

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 201 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء پس جاننا چاہئے کہ اقیموا الصلواۃ کا اول مفہوم یہ ہے کہ نماز کو باجماعت ادا کرو۔یہی وجہ ہے کہ اکثر مقامات پر جہاں قیام الصلوۃ کا ارشاد ہے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔سب مسلمانوں کو نماز قائم کرنے کا اجتماعی حکم دیا گیا ہے اگر یہ ضروری نہ ہوتا تو نہ تو مساجد کی تعمیر کی ضرورت تھی نہ ہی اذان میں تکرار کے ساتھ اس ارشاد کے معنی تھے کہ دوڑتے ہوئے نماز کی طرف چلے آؤ، دوڑتے ہوئے کامیابی کی طرف چلے آؤ۔آنحضور ﷺ کا اسوہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کو آپ کی تعلیم بھی یہی تھی کہ فرض نماز پانچ وقت مساجد میں جا کر باجماعت ادا کی جائے۔چنانچہ آپ اس بارہ میں اس حد تک تاکید فرماتے تھے کہ ایک نابینا کو بھی جسے رستے کی خرابی کی وجہ سے ٹھوکریں کھاتے ہوئے مسجد میں آنا پڑتا تھا نماز گھر میں پڑھنے کی اجازت نہ دی اور یہ معلوم ہونے پر کہ اذان کی آواز اس کے کانوں تک پہنچتی ہے ٹھوکریں کھاتے ہوئے بھی مسجد میں جا کر باجماعت نماز میں شامل ہونے کی تلقین فرمائی۔پس اول مفہوم قیام صلوۃ کا اجتماعی معنی رکھتا ہے اور امت مسلمہ کو خبر دار کرتا ہے کہ جب تک باجماعت عبادت نہیں کرو گے فرض عبادت ادانہ ہوگا۔اس پہلو سے جب ہم حقیقت نماز پر مزید غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ باجماعت نماز کے نظام میں امت مسلمہ کے لئے عظیم الشان مثالیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں۔وقت کی مناسبت سے نہایت اختصار کے ساتھ ان مصلحتوں کا کچھ ذکر کرتا ہوں جو نماز با جماعت کی ادائیگی سے وابستہ ہیں۔با جماعت نماز کثرت میں وحدت کا منظر پیش کرتی ہے اور امت محمدیہ کو کثیر ہو جانے کے باوجود ایک ہو جانے کا سبق دیتی ہے۔باجماعت نماز ایک امام کی ہر وقت ضرورت کی یاد دلاتی ہے اور بتاتی ہے کہ امت مسلمہ پر عاید کردہ فرائض کی ادائیگی امام کے بغیر ممکن نہیں۔باجماعت نماز یہ سبق دیتی ہے کہ امام کی اطاعت ہر حال میں فرض ہے اور امت پر واجب ہے کہ اپنی ہر حرکت اور سکون کو امام کی جنبش لب کے تابع کر لے۔امام کی اطاعت اس حد تک فرض کی گئی ہے کہ اگر کسی مقتدی کے نزدیک امام سے غلطی بھی ہو گئی ہو تو محض ادب سے توجہ دلا نا فرض ہے اگر اس کے باوجود امام اپنے فیصلے کو درست سمجھے تو اس کی اطاعت سے گریز کی اجازت نہیں۔کسی حرکت میں امام سے آگے نکلنے اور پہل کرنے کی اجازت نہیں۔ساری جماعت کا رخ قبلے کی طرف رہتا ہے جس میں پجہتی اور یکسوئی