خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 198
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 198 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء ہے۔ہم صبح و شام اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔لیکن نہ تو صبح ہم میں سے اکثر کے لئے کوئی پیغام لاتی ہے نہ شام۔پس اس انسانی کمزوری کے پیش نظر نظام صلوٰۃ کا دوسرا جز واذان کو مقرر کیا گیا ہے جو غفلت کے پردوں کو چیرتی ہوئی ہمارے خوابیدہ احساس کو جگاتی اور مرتعش کر دیتی ہے۔نماز کی لذت سے آشنا تو دنیا میں کم ملیں گے کیونکہ یہ ایک مشکل اور بلند تر مرحلہ ہے لیکن شاید ہی کوئی مسلمان ایسا ہو جو اذان کی لذت سے آشنا نہ ہو۔غروب آفتاب جو دن کے کھوئے جانے کا ایک مبہم سا احساس اور ایک غمگینی سی دلوں میں پیدا کرتا ہے تو اچانک مسجدوں سے بلند ہوتی ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر کی آواز دلوں میں ایک لذت اور سرور پیدا کر دیتی ہے اور خواہ کوئی نماز پڑھنے والا ہو یا نہ پڑھنے والا ہو ہر سننے والے کا ذہن اس طرف منتقل ہونے لگتا ہے کہ ہمارا ایک زندہ خدا ہے جس کی عبادت کی طرف ہمیں مسجدوں میں بلایا جا رہا ہے۔اپنے یہ تو غروب آفتاب کی کیفیت تھی اب ذرا پو پھوٹنے کا تصور کیجئے۔یہ وقت انسان کے لئے ایک بالکل مختلف اور غروب آفتاب کی کیفیت کے برعکس پیغام لے کر آتا ہے۔نئے دن کی آمد آمدنئی امنگوں اور نئی کوششوں کا مژدہ سناتی ہے لیکن اس وقت بھی غافل انسان کا غافل دل از خود ہی ا۔رب کی طرف منتقل نہیں ہو جاتا ہے۔آنکھ کھلتی ہی ہے تو کہ دل کہتا ہے عمل کا وقت ابھی شروع نہیں ہوا، اس وقت اک پر درد اور پر شوکت آواز فضا کے پردوں کو سرسراتی دل کی گہرائیوں سے گزر جاتی ہے۔الله اكبر الله اكبر الله اكبر الله اكبر، اشهد ان لا اله الا الله ، اشهدان لا اله الا الله، اشهدان محمد ارسول الله ، اشهدان محمدا رسول الله تب کچھ خوش نصیب اس آواز کو سن کر نیند کو خیر آباد کہتے ہوئے اپنے پہلوؤں کو بستر سے الگ کر دیتے ہیں اور کچھ دوسرے اپنی بے عملی پر افسوس کرتے ہوئے پھر نیند کی آغوش میں جاسوتے ہیں۔لیکن نمازی ہو یا غیر نمازی دونوں صورتوں میں اذان اپنا کام کر ہی جاتی ہے اور بدلتے ہوئے وقت کے بدلتے ہوئے احساس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی یاد کو اس طرح ملا دیتی ہے جیسے دودھ میں رس گھول دیا گیا ہو۔یہ اذان کا محض ایک ظاہری اثر ہے جو بسا اوقات کا فر کو بھی اسی طرح متاثر کر جاتا ہے جیسے مومن کو اور اگر اذان دینے والا خوش الحان ہو تو شاید ہی کوئی انسان ہوگا جو بدلتے ہوئے وقت اور