خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 197
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 197 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء ہو جاتی ہیں۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نما ز مغرب مقرر ہے۔(۴) چوتھا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے کہ جب بلا تم پر وارد ہی ہو جاتی ہے اور اس کی سخت تاریکی تم پر احاطہ کر لیتی ہے۔۔۔سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ رات پڑ جاتی ہے اور سخت اندھیر اپڑ جاتا ہے۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عشاء مقرر ہے۔(۵) پھر جب کہ تم ایک مدت تک اس مصیبت کی تاریکی میں بسر کرتے ہو تو پھر آخر خدا کا رحم تم پر جوش مارتا ہے اور تمہیں اس تاریکی سے نجات دیتا ہے۔مثلاً جیسے تاریکی کے بعد پھر آخر کار صبح نکلتی ہے تو پھر وہی روشنی دن کی اپنی چمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔سواس روحانی حالت کے مقابل پر نماز فجر مقرر ہے۔اور خدا نے تمہاری فطرتی تغیرات میں پانچ حالتیں دیکھ کر پانچ نمازیں تمہارے لئے مقرر کیں۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نمازیں خاص تمہارے نفس کے فائدے کے لئے ہیں۔پس اگر تم چاہتے ہو کہ ان بلاؤں سے بچے رہو تو تم پنجگانہ نمازوں کو ترک نہ کرو کہ وہ تمہارے اندرونی اور روحانی تغیرات کا ظل ہیں۔نماز میں آنے والی بلاؤں کا علاج ہے۔تم نہیں جانتے کہ نیا دن چڑھنے والا کس قسم کے قضا و قدرتمہارے لئے لائے گا۔پس قبل اس کے جو دن چڑھے تم اپنے مولیٰ کی جناب میں تضرع کرو کہ تمہارے لئے خیر و برکت کا دن چڑھے۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ : ۶۹-۷۰) نظام صلوٰۃ کا دوسرا جز و اذان ہے جس کی مدد کے بغیر بدلتے ہوئے اوقات کا اشارہ سمجھنا اکثر انسانوں کے لئے ممکن نہیں۔دیکھئے ہم ہر روز سورج کو ڈھلتا ہوا اور پھر غروب ہوتا ہوا بھی دیکھتے ہیں یہاں تک کہ یہ ہمیں رات بھر کے لئے اندھیروں کے سپرد کرتا ہوا رخصت ہو جاتا ہے لیکن کیا واقعہ ہم ان بدلتے ہوئے اوقات کے پیغام کو سمجھ کر از خود اپنے خدا کو یاد کرنے لگتے ہیں؟ افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا۔صد افسوس کہ غافل انسان کا غافل ذہن جہل اور غفلت کے لحافوں میں پڑا سوتا رہتا