خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 196

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 196 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء سرسری نظر ڈالتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اس کے مخفی در مخفی کمالات اور لطائف کی سیر کریں گے۔سب سے پہلے اوقات نماز کا ذکر آتا ہے۔یہ گویا وہ برتن ہیں جن میں ہر نماز کو قرینے سے سجایا گیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان وقتوں کو نمازوں سے کیا مناسبت ہے اور کیوں سورج کے زوال اور غروب اور رات کے اندھیروں یا صبح کے او جالوں کو اسلامی نمازوں کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے؟ عارف ربانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس گتھی کو سلجھاتے ہوئے فرماتے ہیں: پنجگانہ نمازیں کیا چیز ہیں وہ تمہارے مختلف حالات کا فوٹو ہے۔تمہاری زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں جو بلا کے وقت تم پر وارد ہوتے ہیں اور تمہاری فطرت کے لئے ان کا وار د ہونا ضروری ہے۔(۱) پہلے جبکہ تم مطلع کئے جاتے ہو کہ تم پر بلا آنے والی ہے۔مثلاً جیسے تمہارے نام عدالت سے ایک ورانٹ جاری ہوا یہ پہلی حالت ہے۔جس نے تمہاری تسلی اور خوشحالی میں خلل ڈالا سو یہ حالت زوال کے وقت سے مشابہ ہے۔کیونکہ اس سے تمہاری خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا۔اس کے مقابل پر نماز ظہر متعین ہوئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔(۲) دوسرا تغیر اس وقت تم پر آتا ہے جب کہ تم بلا کے محل سے بہت نزدیک کئے جاتے ہو مثلاً جبکہ تم بذریعہ وارنٹ گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش ہوتے ہو۔یہ وہ وقت ہے کہ جب تمہارا خوف سے خون خشک ہو جاتا ہے اور تسلی کا نور تم سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے۔سو یہ حالت تمہاری اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب سے نور کم ہو جاتا ہے اور نظر اس پر جم سکتی ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب اس کا غروب نزدیک ہے۔اس روحانی حالت کے مقابل پر نماز عصر مقرر ہوئی۔(۳) تیسرا تغیر تم پر اس وقت آتا ہے جو اس بلا سے رہائی پانے کی بکلی امید منقطع ہو جاتی ہے۔۔۔۔یہ وہ وقت ہے جب تمہارے حواس خطا ہو جاتے ہیں اور تم اپنے تئیں ایک قیدی سمجھنے لگتے ہو۔سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور تمام امید میں دن کی روشنی کی ختم