خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 195

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 195 حقیقت نماز ۲۷۹۱ء حقیقت نماز ( بر موقع جلسه سالانه ۱۹۷۲ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا: قرآن کریم کی نظریاتی تعلیم میں جو ارفع اور مرکزی مقام کلمہ توحید کو ہے وہی ارفع اور مرکزی مقام اس کی تعلیم عمل میں نماز کو حاصل ہے۔یہ سب عبادتوں کی جان ہے، تمام نیک اعمال کی روح، ہر برکت کی کنجی اس میں ہے، فلاح کی کوئی راہ اس کو چھوڑ کر نہیں۔اس سے ہٹ کر نجات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔جب تک یہ قائم رہے انسان صراط مستقیم پر قائم رہتا ہے، جب یہ قائم نہ رہے تو صراط عمل مستقیم نہیں رہتی اور راستہ سلامتی کی منزل کو چھوڑ کر ہلاکت کے صحراؤں میں بھٹکنے لگتا ہے۔میرا آج کا مضمون جو نماز کی حقیقت اور فلسفے سے متعلق ہے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان اور قلم پر جاری ہونے والے معارف کا مرہون منت ہے۔یہ معارف وہ ہیں جن کے متعلق خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا دعوی بس اتنا ہے کہ ایں چشمہ رواں کہ مخلق خدا دہم یک قطره زبحر کمال محمد است ( در تمین فارسی صفحه: ۸۹) کہ یہ معارف کا شیریں چشمہ جو میں نے خلق خدا کی سیرابی کے لئے جاری کیا ہے میرے آقا محمد کے کمالات کے سمندر کا محض ایک قطرہ ہے۔آئیے اب ہم نظام صلوٰۃ پر پہلے ایک