خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 184
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 184 حضرت مصلح موعود کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ ء کے بعد جو تفاسیر لکھیں ان میں تفسیر کے علاوہ بے شمار ایسے اشارے پائے جاتے ہیں جن میں حضور کو آگے بڑھ کر پیروی کا وقت نہیں ملا۔اگر قرآن کے معانی کو اور لطائف کو روحانی پرندوں سے تشبیہ دیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تفسیر کے ایک ایک صفحہ پر با رہا اشارے کرتے ہیں کہ وہ بھی ایک روحانی پرندہ ہے، وہ بھی ایک روحانی پرندہ ہے، وہ بھی ایک روحانی پرندہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کی تفسیر پڑھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے جس طرح باز اپنے آقا کے اشارے پر ان پرندوں کی پیروی کیلئے جھپٹتا ہے اس طرح مصلح موعودؓ نے ہر اشارے کی پیروی کی اور اس روحانی پرندے کو ہمارے لئے ، ہماری دنیا کے مائدے کے لئے ، دنیا کے دستر خوان کے لئے لا حاضر کیا۔آج جو ساری دنیا اس دستر خوان سے کھانا کھا رہی ہے، قرآن کریم کے رزق سے لطف اٹھا رہی ہے یہ وہ اشارے ہیں جن کے پس منظر میں وہ اشارے ہیں اور کہا کہ نہ صرف یہ کہ ہر آیت کا دوسری آیت سے تعلق ہے بلکہ ہر سورۃ کا اپنی آئندہ آنے والی سورۃ کے ساتھ تعلق ہے۔ایک سورۃ کا آخر دوسری سورۃ کے شروع سے تعلق رکھتا ہے پھر وہ مضمون چلتا چلا جاتا ہے پھر اس سورۃ کے ختم ہونے کے بعد اس کا اگلی سورۃ سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے اور تفسیر کبیر میں اس کو عقلی دلائل کے ساتھ ، واضح دلائل کے ساتھ ثابت فرمایا ہے۔مثال کے طور پر سورہ یونس کے متعلق حضور فرماتے ہیں کہ سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ سلوک کے دو پہلو بیان فرمائے تھے ایک سزا کا دوسر ارحم کا۔سزا کے پہلو کوسورۂ ہود میں تفصیل سے بیان کیا۔( تعارف سورۃ یوسف تفسیر کبیر جلد ۳ صفحہ : ۲۷۳) یہ وہ سورۃ ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ منکرین کے لئے اتنی سزا کی باتیں اس میں بیان کی گئی ہیں ، وعید دیئے گئے ہیں کہ اس غم سے کہ منکرین ہلاک ہو جائیں گے میرے بال سفید ہو گئے ہیں۔اتنا گہراغم کا اثر اس سورۃ نے آپ پر چھوڑا۔اس کے بعد جو سورۃ آتی ہے وہ سورۃ یونس کے دوسرے پہلو یعنی تبشیر کے پہلو کا ذکر کرتی ہے اور اس عظیم الشان رحمت کا ذکر کرتی ہے جو حضور اکرمﷺ کے دل سے جس کا چشمہ پھوٹا تھا اور جس نے دشمنان کو معاف کر دینا تھا۔چنانچہ فرمایا سورہ یوسف میں رحم کے پہلو کی تفصیل ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ نے آخر کار اپنے مخالفوں کو رحم سے کام لیتے ہوئے معاف