خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 185 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 185

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 185 حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن ۰۷۹۱ء کر دیا تھا۔( تعارف سورۃ یوسف تفسیر کبیر جلد ۳ صفحه ۷۳) دیکھیں کتنا عظیم الشان ایک تعلق اور ربط حضور ثابت فرماتے ہیں۔یہ سلسلہ بڑا تفصیلی ہے ہر سورۃ کے مضامین کا ایک دوسرے سے تعلق ثابت ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک عام خصوصیت اور قابل ذکر یہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے انبیاء کی عصمت کے لئے ایک عظیم الشان کارنامہ سرا انجام دیا ہے۔قرآن کریم کی پہلی تفسیروں میں بھی اور اس سے بہت زیادہ بائبل کے مفسرین کی طرف سے اور دشمنانِ اسلام کی طرف سے یا خود یہود علماء اور عیسائی علماء کی طرف سے اپنے اور غیر نبیوں پر اتنا گند اچھالا گیا تھا کہ نبی تو نبی بعض انبیاء ایک عام شریف انسان کے طور پر بھی دنیا کے سامنے پیش نہیں کئے جاسکتے اور آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کر رہے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایسے زور کے ساتھ ان کی عصمت کی حفاظت کی ہے قرآن کریم سے ثابت کرتے ہوئے کہ عش عش کر اٹھتا ہے انسان۔وہ آیتیں جو کسی پر حل نہ ہوئی تھیں ، وہ عقدے جو کسی سے کھل نہ سکے تھے ، وہ آیتیں حضور نے حل فرما ئیں اور وہ عقدے کھولے۔چنانچہ یہ میں اپنے الفاظ میں نہیں کہتا، میں ایک غیر احمدی دوست کے تاثرات کی صورت میں آپ کے سامنے یہ بات بیان کرتا ہوں۔ملاحظات نیاز میں علامہ نیاز فتح پوری کے مضامین شائع ہوئے ہیں جو مشہور شخصیت ہیں۔آپ فرماتے ہیں: تفسیر کبیر جلد سوم آج کل میرے سامنے ہے اور میں اسے بڑی نگاہ غائر سے دیکھ رہا ہوں۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویہ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تجر علمی، آپ کی وسعتِ نظر ، آپ کی غیر معمولی فکر و فراست ، آپ کے حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں کیوں اس وقت تک بے خبر رہا؟ کاش کہ میں اس کی تمام جلدیں دیکھ سکتا۔کل سورۃ ہود کی تفسیر میں حضرت لوط پر آپ کے خیالات معلوم کر کے جی بھڑک گیا اور بے اختیار یہ خط لکھنے پر مجبور ہو گیا۔آپ نے هَؤُلاء بَنَاتِی (حود : ۹۷) کی تفسیر