خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 173 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 173

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 173 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء اور مارکس (Karl Marx) کو پہنایا جا رہا ہے۔آج ہمارے اس ملک پاکستان میں بھی مشرقی پاکستان میں یہ آوازیں بلند کی جارہی ہیں بڑے بڑے ہجوموں میں لاکھوں کی تعداد میں جلوس نکلتے ہیں اور ایک آدمی نعرہ مارتا ہے ہمار یا تمہار نیتا ماؤزے تنگ۔ہمارا آقا تمہارا آقا کون ہے؟ ماؤزے تنگ۔اس کے مقابل پر اسلام یہ کہتا ہے قرآن یہ کہتا ہے کہ يسَ وَالْقُرْآنِ الْحَكِيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ) لیس:۴۲) کہ (اے محمد) قرآن حکیم کی ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تو ہی اس دنیا کا سردار ہے اور کوئی دنیا کا سردار نہیں ہے۔پس آج یہ وقت آگیا ہے کہ ہم سرداری کا فیصلہ کریں کہ محمد عربی اس دنیا کے سردار ہیں یا ماؤزے تنگ (Mao Tse-Tung) یا لینن (Vladimir Lenin) یا مارکس (Karl Marx) اس دنیا کے سردار رہیں گے؟ اس لئے مستعد ہو جاؤ اور تیار ہو جاؤ حقیقت یہ ہے کہ اب باتوں سے اس لڑائی کا فیصلہ نہیں ہو گا۔بد قسمتی سے اسلام نے اگر شکست کھائی ہے اب تک تو محض اس وجہ سے کہ اسلام کے نظریہ کو اشتراکیت کی حقیقت کے سامنے پیش کیا جاتا رہا۔کوئی ایک بھی ملک آج ایسا نہیں ہے جہاں اسلام ایک حقیقت کے طور پر رائج اور نافذ ہوا ہو۔اس لئے ایک تصور کا ایک حقیقت کے مقابل پر شکست کھانا خواہ وہ حقیقت کتنی ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو بالکل ایک قدرتی اور طبعی بات تھی۔یہ شکست اسلام کی نہیں ہے یہ مسلمانوں کی بدقسمتی کی شکست ہے ان بدقسمت مسلمانوں کی شکست ہے جنہوں نے اسلام کو محض نظریات میں رکھ دیا اور عملی دنیا میں وہ یا اشترا کی ہوگئے یاوہ کیپٹلسٹ (Capitalist) بن گئے۔اس لئے آج ہمیں چاہئے کہ اس امر پر غور کر کے اپنی کمروں کو کسیں اور مستعد ہو جائیں اور تیار ہو جائیں اور یہ اپنی زندگیوں کے ذریعے عملی طور اسلام کو اپنے اوپر نافذ کر کے یہ ثابت کریں کہ اسلام ہی بہتر تعلیم ہے۔حقیقت یہ ہے کہ میں یہ سوچتا ہوں کہ جنگ بدر کے موقع پر جو ایک انصاری نے ہمیشہ ہمیش صلى الله کے لئے زندہ جاوید کلمات فرمائے تھے اور جو عہد کیا تھا آنحضر سے آج وقت ہے کہ ہم اس