خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 169 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 169

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 169 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء روٹی کی خاطر پیدا نہیں کیا روٹی کو انسان کی خاطر پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے جو کائنات کا تصور پیش کیا ہے وہ ایک ارتقائی تصور ہے۔باہمی دوڑ کا تصور، جد و جہد کا تصور اور اس دوڑ کے نتیجے میں اعلیٰ اقدار جو انسان کو حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں جو سبق سیکھتا چلا جاتا ہے ظلم سے رحم کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے، نا جائز دباؤ سے حق چھوڑنے کی طرف مائل ہوتا چلا جاتا ہے، یہ وہ رستہ ہے عروج اور ترقی کا جس کی طرف اللہ تعالیٰ انسان کو لے جانا چاہتا ہے۔اگر اس رستہ کے سارے امکانات بند کر دیئے جائیں، روکیں ڈال دی جائیں تو تمام ارتقاء انسانی تہذیب کا وہیں کھڑا ہو جاتا ہے۔انسانی تہذیب ہی کا نہیں بلکہ سائنس سے ثابت ہے کہ اگر اشترا کی اصل کو اس زندگی کی سٹیج پر نافذ کر دیا جاتا جہاں کی زندگی ابھی صرف امیبا کی صورت میں تھی اور باہمی جدوجہد کے نتیجے میں جو بہتر اور اعلیٰ اقدار زندگی لڑتے ہوئے حاصل کرتی ہے وہ حاصل نہ ہوتیں تو ارب ہا ارب سال بھی زندگی پر گزر جاتے تو امیبا امیبا ہی رہتا اور انسان کے مقام پر نہ پہنچتا۔انسانیت کے بعد انسان نے جتنی بھی تہذیب سیکھی ہے وہ اسی اونچ نیچ کے نتیجے میں ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ( آل عمران: ۱۴۱) کہ ہم نے جو نظام پیش کیا ہے وہ ایک سٹیٹک نظام (Static System) نہیں ہے ایک ہی حالت پر کھڑا ہوا نظام نہیں ہے وہاں تو دن سے رات نکلتی ہے اور رات سے دن نکلتا ہے، امارت سے غربت پیدا ہوتی ہے اور غربت سے امارت پیدا ہوتی ہے اور اس باہمی جد و جہد اور جدال کے نتیجہ میں انسان جو سبق سیکھتا ہے اور اعلیٰ اخلاق کی طرف حرکت کرتا ہے یہی زندگی کا مقصود ہے لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا تو زندگی کا جو مقصود ہے اور وہ تحریک جو انسان کو ادنی سے اعلیٰ مقامات کی طرف لے جارہی ہے اگر اس مقصود کو کالعدم قرار دے دیا جائے یا اس تحریک کے راستے بند کر دیئے جائیں تو انسان کی ترقی وہیں کھڑی ہو جاتی ہے۔اس لئے بھی اسلام کا نظریہ فائق اور دین فطرت کے مطابق ہے اور تمام انسانی زندگی کی تاریخ اس نظریہ کی تائید کرتی ہے۔اس کے علاوہ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ میں ایک عظیم الشان اقتصادی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی۔فرمایا عدل کا مقام پہلا مقام ہے ہم چونکہ انسان کو ادنیٰ سے اعلیٰ اقدار کی طرف حرکت کروانا چاہتے ہیں اس لئے پہلا فرض اس کا یہ ہے کہ وہ عدل قائم کرے لیکن عدل کے نتیجے میں انسان نہیں