خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 168
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 168 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء پورے ہونے چاہئیں ان تقاضوں میں سے ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی انفرادیت کو قائم رکھا جائے۔اگر روٹی کی خاطر انسان کی انفرادیت مار دی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہزاروں انسان ہونگے جو انفرادیت کو زیادہ پسند کریں گے بہ نسبت بہتر روٹی کے۔لوگ عزت کی خاطر جانیں دے دیتے ہیں، مال قربان کر دیتے ہیں آخر وہ کون سا انسانی فطرت کا جذبہ ہے جو ان باتوں پر مجبور کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ روٹی کی برابر تقسیم محض برابر تقسیم نہ کافی ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔انسان جتنا بھی چاہے عملاً وہ روٹی کو برابر تقسیم کرنے میں ناکام رہے گا۔اشترا کی دنیا کے موجودہ حالات ہمیں بتارہے ہیں گذشتہ تاریخ ہمیں بتا رہی ہے کہ وہ اشترا کی دنیا کے حدود کے اندر بھی روٹی کو برابر تقسیم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اور پھر ایک اور بات خاص طور پر توجہ رکھنے کے قابل یہ ہے کہ اشتراکیت مبنی ہے اس بات پر کہ انسان بنیادی طور پر بد خلق ہے اور بددیانت ہے اور جھوٹا ہے اور فسادی ہے اور دوسرے کا مال ہضم کرنے والا ہے۔اگر یہ نظر یہ اشتراکیت تسلیم نہ کرے تو برابر تقسیم اور متوازن سوسائٹی کا تصور پیش ہی نہیں ہوسکتا۔اس کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر انسان کو برابر روٹی تقسیم نہ کی جائے تو وہ لاز ما ایک دوسرے کی طرف دیکھے گا اور ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کرے گا اور ایک دوسرے کا مال غصب کرے گا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سوسائٹی میں بدامنی اور بے اطمینانی پھیل جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر انسان ایسا ہی ظالم اور بنیادی طور پر اس بات کا نا اہل ہے کہ اس کے سپرد کوئی ذمہ داریاں کی جائیں تو اشترا کی دنیا میں جب حکومت کے کاموں کی تقسیم ہوگی جب روٹی کی تقسیم کا مسئلہ بعض انسانوں ہی نے کرنا ہوگا تو اس وقت اس چھینا جھپٹی اور لالچ اور ہوس اور استبداد ان تمام چیزوں کو انسان کے اندر سے کس طرح نکال دیا جائے گا ؟ عملاً ناممکن ہے۔اور ایک اور بات یہاں خاص طور پر قابل ذکر یہ ہے کہ اسلام ایسی برابری کو ایسی مساوات کو جس کے نتیجے میں اونچ نیچ بالکل مفقود ہو جائے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔اسلام ایک ایسے ارتقاء کا تصور پیش کرتا ہے جس میں برابر روٹی کی تقسیم فٹ (Fit) ہی نہیں ہوسکتی اس کے ساتھ وہ مطابقت ہی نہیں کھا سکتے۔قرآن کریم جس نہج پہ انسان کو چلانا چاہتا ہے اور جو تصور انسانیت کا پیش کرتا ہے وہ یہ ہے کہ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (الملک:۳) ہم نے انسان کو صرف