خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 167
تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 167 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء بعد جو کچھ کسی کے لئے بچتا ہے اسے حق ہے کہ وہ اسے استعمال کرے۔چنانچہ انسان کی انفرادیت کو بھی قائم رکھا اور قوم کی قومیت کو بھی قائم رکھا اشتراکیت اس کے برعکس تمام انسانی ذرائع کو ایک ہاتھ میں یعنی حکومت کے ہاتھ میں اکٹھا کر دیتی ہے۔یہاں یہ بات بیان کرنی ضروری ہے کہ اشتراکیت کا یہ اصل کہ تمام دولت برابر تقسیم ہو جائے اور ہر انسان کو برا برمل جائے بظاہر بڑا دلکش اور بڑا حسین اصل معلوم ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا پس منظر کیا ہے؟ آخر کیوں ایسا کیا جائے؟ حقیقت میں اگر اس کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ خوشیاں برابر تقسیم کی جارہی ہیں تو پھر اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔انسان تو مسرت اور خوشی اور اطمینان چاہتا ہے اگر مسرت اور اطمینان اور خوشی ایسی اقدار ہیں تو جو برابر تقسیم کی جاسکتی ہیں تو پھر اس اشترا کی اصل کو ہمیں دوسرے مواقع پر بھی چسپاں کرنا پڑے گا۔حکومت میں دخل انسان کی ایک فطری خواہش ہے کسی پر حکومت کرنا، علم کا حصول اور اعلی علمی مقام حاصل کرنا، فتوحات کرنا ، غلبہ حاصل کر کے دوسرے کو شکست دینا یہ تمام انسان کی فطری خواہشات ہیں۔محبت ،شادی بیاہ، بچوں کا حصول ، بیماریوں سے بچنا، صحت یہ تمام ایسی چیزیں ہیں جو انسان کی خوشی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔یہاں آکر اشتراکیت کا کھوکھلا پن ظاہر ہو جاتا ہے چونکہ اشتراکیت مالک نہیں ہے اس لئے ان چیزوں میں دخل دینے کا نہ حق رکھتی نہ طاقت رکھتی ہے۔وہ خوشی کو برابر تقسیم کر ہی نہیں سکتی۔لینن کی بیوی نے ایک موقع پر لکھا کہ صرف روٹی سے پیٹ بھر لینا ہی انسان کی مسرتوں کے لئے کافی نہیں ہے اور انسان کے اطمینان کے لئے کافی نہیں ہے۔جب مارکس (Karl Marx) کا بچہ مرا اور وہ انتہائی درد اور دکھ میں مبتلا ہوا اس کی باقی ساری عمر اس غم میں کٹ گئی تو اس کی بیوی نے بھی اسی قسم کے الفاظ اپنے ایک دوست کو خط میں لکھے یعنی مارکس (Karl Marx) کے دوست کو اور اس نے کہا کہ دنیا میں خوشیاں صرف روٹی پر ہی منحصر نہیں ہیں۔اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے اور روٹی کو وہ بنیادی اور مرکزی حیثیت اس رنگ میں نہیں دیتا جس رنگ میں اشتراکیت دیتی ہے اور روٹی کی برابر تقسیم کے نتیجے میں خوشی کے برابر پھیلاؤ کا دعویٰ نہ کرتا ہے نہ یہ عمل ممکن ہے۔اسلام کے نزدیک روٹی ایک ضرورت ہے اور یہ ضرورت پوری ہونی چاہئے۔اس کے بعد انسان کی خوشی کے لئے انسانی فطرت جتنے تقاضے کرتی ہے وہ سارے