خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 158

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 158 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء دوسرے فرق گھومتے ہیں۔اس بنیادی اعلان کے نتیجہ میں جو اسلام نے کیا اسلام کی تمام دوسری تعلیم شاخوں کی طرح پھوٹتی ہے۔اسلام کا فلسفہ قانون بھی اسی اعلان کا نتیجہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ قانون جس کا انسان کا۔پابند ہو وہ اس پر کون لاگو کرے گا؟ کس کو حق ہے کہ کوئی قانون بنائے؟ جب تک یہ بنیادی مسئلہ طے نہ ہو قانون بن نہیں سکتا۔قرآن کریم کے نظریہ کے مطابق اسلام کا خدا اس تمام کائنات کا خدا چونکہ خالق و مالک ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اس لئے مقنن بھی وہی ہوگا۔مالک ہی کا حق ہے کہ وہ اپنی چیز کے لئے ضابطہ حیات طے کرے غیر مالک کو کسی دوسری ملکیت میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں چنانچہ قرآن کریم اس اصل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: پھر فرمایا: وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ ( آل عمران : ۱۱۰) تَبْرَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيُوةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ) ( الملك : ٣:٣) یہ ساری کائنات جو کچھ بھی اس میں ہے آسمانوں اور زمین میں وہ سب خدا ہی کا ہے پس فیصلوں کا حق بھی اسی کو ہوگا۔اِلَى اللهِ تُرْجَعُ الأمور اس ملک کے متعلق تمام فیصلوں کا حق اللہ تعالیٰ کا ہی ہے۔اشتراکیت اس کے برعکس جو فلسفہ قانون پیش کرتی ہے اس کی بنا ء خدا کے انکار اور انسان کی آزادی پر ہے۔مارکس (Karl Marx) اور انجلز (Friedrich Engels) اور لینن (Vladimir Lenin) اور دیگر اشترا کی مفکرین نے انسان کی آزادی کا ڈھونگ رچایا اور کہا کہ ماوراء الانسان ہستی کا تصور باطل اور خیال اور مضحکہ ہے اور یہ نظریہ پیش کیا کہ مذہب محض ایک افیم ہے جسے غریب طبقے کو سلانے کے لئے امیر طبقے کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے گویا کہ تمام مذہبی رہنما یہ افیم دینے والے اور سرمایہ دار طبقے کے آلہ کار ہیں اس کے سوا مذ ہب کی کوئی بنیاد نہیں اور چونکہ