خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 157

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 157 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء اسلام اور سوشلزم بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۶۹ء) تشہد اور تعوذ کے بعد آپ نے قرآن کریم کی درج ذیل آیات کی تلاوت کی: هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ س ج هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ هُوَ اللهُ الَّذِي لاَ إلهَ إِلَّا هُوَ * الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَثِرُ سُبْحَنَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ) هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الحشر : ۲۳ - ۲۵) یہ وہ الفاظ ہیں جن میں قرآن کریم اس خالق اور مالک ہستی کا تعارف انسان سے کرواتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے اور تمام اسماء حسنہ یعنی تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور ان صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔اشتراکیت اس کے برعکس یہ بنیادی اعلان کرتی ہے کہ اس عالم کے ارتقائی وجود میں آج کسی بادشاہ یا کسی خدا کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں اور کسی ایسی ہستی اعلیٰ کا تصور کرنا جو اس عالم موجودات سے الگ تھلگ ہوا اپنے اندر آج ایک عظیم اصطلاحی تضاد رکھتا ہے۔یہ پہلا اور بنیادی فرق ہے اسلام اور اشتراکیت کے مابین جو محوری حیثیت رکھتا ہے اور جس کے گرد تمام