خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 159 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 159

تقاریر جلسه سالانه قبل از خلافت 159 اسلام اور سوشلزم ۹۶۹۱ء انسان آزاد ہے اس لئے ایک آزاد ہستی کا ہی کام ہے کہ اپنے لئے وہ قانون مقرر کرے اور وہ قانون بنائے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اشتراکیت کے اس دعوے میں اس لحاظ سے کوئی حقیقت نہیں ہے کہ اشتراکیت خود مارکس (Karl Marx) کو حقیقت میں اپنا خدا بناتی ہے اور وہ قانون جو بحیثیت آزاد ہونے کے انسان کا حق ہے کہ وہ خود بنائے وہ خالصہ مارکس (Karl Marx) اور اینجلز (Friedrich Engels) کے سپرد یہ حق کر دیتی ہے اور اس سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں دیتی۔اس سلسلہ میں میں انشاء اللہ تعالیٰ ابھی کچھ عرض کروں گا اس سے پہلے میں ایک اور اسلام کا دعویٰ پیش کرنا چاہتا ہوں۔اسلام میں نبی کو کیا حیثیت ہے؟ نبی کو اسلام میں یہ حیثیت ہے کہ جب مالک خدا ہے اور قانون ساز وہ ہے تو اس کا کوئی نمائندہ ضرور ہونا چاہئے جو اس کی طرف سے اس کے قانون کو نافذ کرنے والا ہو اور اس کے قانون کو دنیا میں پہنچانے والا ہو اور تمام مذاہب میں یہ قدرے مشترک ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی حیثیت ایک مقنن ثانی کی حیثیت رکھتی ہے ،خدا تعالیٰ کے بعد آپ کے نمائندہ کے طور پر آپ آتے ہیں اور جب تک یہ سند آپ کو حاصل نہ ہو آپ کا کوئی حق نہیں کہ کوئی دوسرا انسان آپ کی اطاعت کرے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْى يُولى (النجم : ۵،۴ ) کہ محمد عربی تم پر کسی سرداری جتانے کی خاطر یا اپنا قانون نافذ کرنے کے لئے نہیں آئے وہ اپنے نفس کی ھوی کو تمہارے سامنے پیش نہیں کر رہے اِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى وہ تو محض خدا کی آواز ہیں جو خدا ان سے کہتا ہے وہ آگے کہتے چلے جاتے ہیں اس لئے اگر وہ مطاع ہیں تو اس لئے کہ مالک حقیقی کے نمائندہ ہیں اور اس حیثیت سے قرآن کریم قول بشر کے متعلق بار بار تر دید فرماتا ہے کہ آنحضرتﷺ کا کلام قول بشر نہیں ہے۔اس کے برعکس جیسا کہ میں نے بیان کیا مارکس (Karl Marx) اور اینجلز (Friedrich Engels) اور دیگر اشترا کی لیڈر قول بشر کو تسلیم کرتے اور اس پر اصرار کرتے ہیں کہ 6 یہ قول بشر ہی ہے اور اس کے باوجود تمام انسانوں کا فرض ہے کہ اسے تسلیم کریں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا حقیقت یہ ہے کہ مارکس (Karl Marx) کو اشتراکیت میں خدا کی حیثیت دی جاتی ہے اور لینن (Vladimir Lenin) کو نبی کی حیثیت دی جاتی ہے اور