خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 468

خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 13

تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 13 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ ء کی جاتی ہے۔وہی باتیں لکھیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اکرم ﷺ ایک زمانے میں کی تھیں۔آپ نے فرمایا کہ سیدنا! میرا تو سب کچھ آپ کا ہے۔میرا گھر بار، میرے بیوی بچے ہم سب خدام ہیں آپ چاہیں تو میں سب کچھ آپ کے حضور فدا کر دوں۔اپنی بیوی بچوں کو اپنی مال دولت کو قربان کر دوں اس لئے آپ یہ نہ کہیں کہ کچھ تھوڑا دو، آپ یہ نہ کہیں کہ حصہ رسدی دو بلکہ مجھے ارشاد ہو کہ میں سب کچھ آپ کے حضور لا کر حاضر کر دوں۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ : ۳۵) تو دیکھئے یہ ہے وہ توقع یہ ہے وہ مقام جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کو بلاتے ہیں۔لیکن حضور جانتے تھے کہ جماعت کی حالت کمزور ہے۔اس وقت ہماری مالی حالت آج سے بہت ہی زیادہ کمزور تھی اور حضور عام مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔حضور کا دل چاہتا تھا کہ خدا نے آپ سے جو پیاری پیاری باتیں کی تھیں، خدا جو راتوں کو آپ سے بولا کرتا تھا وہ ساری باتیں ساری دنیا میں اشاعت کر کے پھیلا دیں۔جیسے کسی کو ایک نعمت ملتی ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ (الضحی :۲۱) اس کے مطابق آپ کا دل بیقرار رہا کرتا تھا لیکن پیسے نہیں تھے ، بے سروسامانی کی حالت تھی اور حضور نہایت ہی درد سے ملک ہند کو خطاب کر کے کہتے ہیں کہ ” اے ملک ہند! کیا تجھ میں کوئی ایک باہمت امیر نہیں کہ اگر اور نہیں تو فقط اسی شاخ کے اخراجات کا متحمل ہو سکے۔“ یہ شاخ اشاعت لٹریچر، اشاعت کتب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی شاخ ہے جس کا آپ نے اس سے پہلے ذکر فرمایا تھا اور اس سے آگے حضور فرماتے ہیں کہ اسلام پر ابھی ایسی مفلسی طاری نہیں ہوئی تنگ دلی ہے ایسی تنگ دستی نہیں۔اور وہ لوگ جو کامل استطاعت نہیں رکھتے وہ بھی اس طور پر اس کارخانہ کی مدد کر سکتے ہیں جو اپنی اپنی طاقت مالی کے موافق ماہواری امداد کے طور پر عہد پختہ کے ساتھ کچھ رقوم نذر اس کارخانے کی کیا کریں۔“ فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه: ۳۰، ۳۱)