خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 12
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 12 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء داڑھی پوری بھری ہوئی تھی تو کشتی بھنور میں پھنسنے لگی اور ملاح نے کہا لوگوں میں اعلان کیا کہ لوگ خضر پیر کی خیرات کچھ نہ کچھ ڈال دیں تو چوہدری کو مذاق کی سوجھی اور اس نے اس میراثی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آؤ کیوں نہ ہم اپنی داڑھی کے دو دو چار چار بال اس دریا میں پھینک دیں وہ جانتا تھا کہ اس کے دوچارہی بال ہیں میراثی سمجھ گیا اور اس نے برجستہ جواب دیا کہ چوہدری جی! اے چوآں دا ویلا اے۔کیٹر ا پودا پتر اے جے ساری داڑی نہ پیٹ کے سُٹ دے۔تو یہ ایک لطیفہ ہے جس پہ ہنسی آتی ہے لیکن اس لطیفہ کا اطلاق اگر آپ جماعت اور اسلام کے مسائل پر کر کے دیکھیں تو یہ لطیفہ نہیں رہتا بلکہ ایک دردناک حقیقت بن جاتا ہے۔خدا کی قسم آج چھ کا وقت نہیں ہے ، خدا کی قسم آج وقت ہے کہ ہم اپنا سب کچھ لا کر دین کے حوالے کر دیں۔آج وقت ہے کہ خدا تعالیٰ جس نے ہمیں سب کچھ دیا تھا، جس نے ہمیں پیدا کیا بڑا کیا یہ زمین و آسمان ہمارے لئے مسخر کر دیے، اس خدا کی دی ہوئی چیزیں اسے لوٹا دیں۔وہ ہم سے ہمیشہ کے لئے نہیں مانگتا عارضی طور پر قرض کے طور پر مانگتا ہے اور پھر اسے واپس کرے گا اور بہت بڑھا چڑھا کر واپس کریگا۔تو ہم مالک حقیقی کا انکار کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کبھی جماعت پر کچھ فرض مقرر نہیں کیا بلکہ حضور جماعت کے اخلاص اور جماعت کی محبت سے یہ توقع رکھا کرتے تھے کہ جماعت بڑھ چڑھ کر قربانیاں کرے۔جیسا کہ حضور کی ایک مبارک تحریر پڑھ کر میں آپ کو سناتا ہوں۔حضور جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں مجھے اب الفاظ یاد نہیں لیکن چند ایک الفاظ حضور کے میرے ذہن میں ہیں وہ میں سنا دیتا ہوں۔حضور فرماتے ہیں کہ ”اے میرے عزیزو ! میرے پیارو! میرے درخت وجود کی سرسبز شا خو! یہ حضور کا خطاب ہے جماعت سے اور یہ کہہ کر حضور فرماتے ہیں کہ میں تم پر کچھ فرض نہیں کرتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جن کو مجھ سے محبت ہے جو مجھ سے خلوص رکھتے ہیں میں انہیں جو کچھ کہوں گا وہ سب کچھ لا کر میری نذر کر دیں گے۔تو میں تم پر زبردستی کرنا نہیں چاہتا کہ تم میرے فرمان کی خاطر مجبور ہو کر کچھ دو۔ہاں میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ خدا کے رستے میں جتنا تم دے سکتے ہو خوشی سے دے دو۔اور آپ کی اس تحریک پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو آپ کو خط لکھا وہ یہی تھا کہ جو ایک مومن کے دل سے توقع