خطابات طاہر (قبل از خلافت۔ تقاریر جلسہ سالانہ) — Page 14
تقاریر جلسه سالا نه قبل از خلافت 14 وقف جدید کی اہمیت ۰۶۹۱ء حضور کے انہی ارشادات کی روشنی میں ہم نے وقف جدید کی طرف سے ایک مستقل شعبہ، شعبہ اشاعت لٹریچر قائم کیا اور ہمارا مقصد یہ تھا کہ کلیۂ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کی اشاعت کی جائے اور تمام پاکستان میں، کیونکہ ہمارا دائرہ عمل پاکستان ہی ہے مختلف مقامی زبانوں میں ان کتابوں کے تراجم کرا کے ان کو شائع کریں لیکن باوجود تحریکات کے اب تک غالبًا جماعت اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہوئی اور یہ عجیب بات ہے کہ پہلے دو مہینے میں اس تحریک میں سوائے معلمین وقف جدید کے اور کسی نے چندہ نہیں دیا۔معلمین وقف جدید کا حال یہ ہے کہ ان کو پچاس روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ان میں سے اکثر بہت سے موصی ہیں وہ پانچ روپے اس میں کٹوا دیتے ہیں، تحریک جدید میں وہ چندہ ادا کرتے ہیں، وقف جدید میں وہ چندہ ادا کرتے ہیں اور اس کے علاوہ کشمیر فنڈ میں اور چھوٹے چھوٹے ریلیف فنڈ ز میں بھی وہ چندہ ادا کرتے ہیں۔کسی ایک چھوٹے سے چھوٹے شعبہ سے بھی پیچھے نہیں ہے اور اس کے بعد ان کے اخلاص کا یہ حال تھا کہ جن میں سے بعض نے سوسور و پے چھوڑے اور اس چالیس روپے کے گزرانے کے اوپر آگئے۔ان کا یہ حال تھا کہ جب یہ تحریک الفضل میں پہلی دفعہ چھپی تو بعض معلمین کی طرف سے یہ خط آنے شروع ہوئے کہ یہ تحریک پڑھ کر کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو شائع کیا جائے گا ہمارے دل درد سے بھر گئے ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ کاش ہم میں توفیق ہوتی تو ہم خود اس تحریک کا بار اٹھا لیتے لیکن ہم میں یہ توفیق نہیں۔بعض نے لکھا کہ میرے ماہانہ الاؤنس میں سے ایک روپیہ کاٹ کر اس چندہ میں جمع کر لیا کریں بعض نے لکھا کہ میرے ماہانہ الا ونس میں سے دوروپے کاٹ کر اس چندہ میں جمع کر لیا کریں۔تو دیکھئے وہ لوگ اس خلوص سے کام کر رہے ہیں۔اگر جماعت اتنا تھوڑا چندہ دے کہ جو معلمین ہم رکھ چکے ہیں ہم ان کا بوجھ بھی برداشت نہ کر سکیں تو کتنی حسرت اور افسوس کا مقام ہوگا۔اور عملاً ایسا ہوا، عملاً ایسا ہی ہوا اور گزشتہ سال ہمارے معلمین کی تعداد 64 تھی لیکن مالی مجبوریوں کی بناء پر اس سال انہیں کم کر کے صرف 58 کردیا گیا اور اس 58 کا خرچ بھی بڑی مشکل سے چلایا جا رہا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔علم کم سہی لیکن اخلاص بہت ہے اور غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔جماعت کا فرض ہے کہ ان